سوال:
محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے اپنے ازدواجی معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
ایک شدید گھریلو جھگڑے کے دوران شوہر کو بہت زیادہ غصہ آیا، اس وقت کمرے میں صرف شوہر اور بیوی موجود تھے، کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا، شدید غصے کی حالت میں شوہر نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے:"طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔"
یہ تینوں الفاظ ایک ہی موقع پر غصے کی حالت میں کہے گئے۔ شوہر کا کہنا ہے کہ اس وقت غصہ بہت شدید تھا، اسے اپنے غصے پر قابو نہیں تھا اور اسے صحیح طور پر سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، بعد میں جب غصہ ختم ہوا تو اسے بہت پچھتاوا ہوا۔
شوہر اور بیوی کے تین بچے ہیں، جن میں ایک بچی تقریباً دودھ پیتی ہے، دوسری تقریباً 6 سال اور تیسری تقریباً 4 سال کی ہے۔ دونوں میاں بیوی اپنے گھر اور بچوں کو بچانا چاہتے ہیں اور دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ براہِ کرم درج ذیل امور کا واضح شرعی حکم بتا دیں:
1) کیا مذکورہ الفاظ سے ایک طلاق واقع ہوئی ہے یا تین؟
2) شدید غصے کی مذکورہ کیفیت کا طلاق کے حکم پر کیا اثر ہے؟
3) اگر تین طلاقیں واقع نہیں ہوئیں تو کیا رجوع یا تجدیدِ نکاح کے ذریعے دوبارہ میاں بیوی اکٹھے ہو سکتے ہیں؟
4) اگر تین طلاقیں واقع ہوئی ہوں تو ہمارے لیے شرعی طور پر کیا حکم ہے؟
5) بچوں کی موجودگی میں ہمیں آئندہ کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟
ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور کسی غلط طریقے سے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع نہیں کرنا چاہتے۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں ہماری مخصوص صورتِ حال کا واضح فتویٰ عطا فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1-2)سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق شوہر کے غصے کی کیفیت اس قدر شدید معلوم نہیں ہوتی کہ وہ الفاظِ طلاق اور اس کے اثر سے بالکل بے خبر ہو، اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اسے الفاظِ طلاق یاد ہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بیوی پر تین طلاقِ مغلّظہ واقع ہو چکی ہیں۔
3-4) زوجین (میاں بیوی)پر لازم ہےکہ فی الفور علیحدگی اختیار کرلیں اور تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح صرف ایک ہی صورت میں ہوسکتا ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر دوسرا خاوند اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے، پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
5) علیحدگی کے بعد لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوگا، اس کے بعد یہ حق باپ کی طرف منتقل ہوگا، البتہ نان ونفقہ اور دیگر ضروری اخراجات کی ذمّہ داری ہر حالت میں والد پر ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفقه الاسلامي و ادلته: (6883/9، ط: دار الفکر)
طلاق الغضبان: يفهم مما ذكر أن طلاق الغضبان لا يقع إذا اشتد الغضب، بأن وصل إلى درجة لا يدري فيها ما يقول ويفعل ولا يقصده. أو وصل به الغضب إلى درجة يغلب عليه فيها الخلل والاضطراب في أقواله وأفعاله، وهذه حالة نادرة. فإن ظل الشخص في حالة وعي وإدراك لما يقول فيقع طلاقه، وهذا هو الغالب في كل طلاق يصدر عن الرجل؛ لأن الغضبان مكلف في حال غضبه بما يصدر منه من كفر وقتل نفس وأخذ مال بغير حق وطلاق وغيرها.
الدر المختار: (566/3، ط: دار الفکر)
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد، زيلعي."
الفتاوی الهندیة: (561/1، ط: دار الفکر)
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة....وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد.
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی