عنوان: موجودہ زمانے میں مہر کی کتنی مقدار ہونی چاہیے، مہر فاطمی کیا ہے اور کتنا ہے؟ نیز کیا لڑکی کی شادی کے اخراجات اس کے والد پر ہیں؟ اور وہ ان اخراجات کی وجہ سے مہر کی مقدار میں اضافہ کر سکتا ہے؟ (6470-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! لڑکی کے حق مہر کے متعلق وضاحت کردیں کہ فی زمانہ کیا حق مہر ہونا چائیے؟ نیز مہر فاطمی کیا ہے اور کتنا ہے؟ دوسری بات یہ کہ ایک بچی جس کا باپ غریب آدمی ہے اور بیٹی کو جہیز یا کسی قسم کا سامان نہیں دیتا، اس کا حق مہر کتنا ہونا چائیے؟ اور میں اپنی بیٹی کو فرنیچر اس کے سسرال والوں کو کپڑے بارات کے دو ڈھائی سو لوگوں کو کھانا بھی کھلاؤں گا، یعنی فضول رواج کی تمام شرائط پوری کروں گا، تو اس صورت میں میری بیٹی کا حق مہر کتنا ہونا چائیے؟

جواب: 1- حق مہر سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ مہر کی مقدار اتنی کم بھی نہیں ہونی چاہیے کہ بالکل معمولی سی ہو اور بہت زیادہ مہر مقرر کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں تھا، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مہر میں غلو نہ کرو، اگر مہر کا زیادہ رکھنا دنیا میں عزت اور اللہ کے نزدیک تقویٰ کی بات ہوتی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ مستحق تھے، اسی وجہ سے احناف کے نزدیک مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم (تقریباً دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہر دس درھم سے کم نہیں ہونا چاہیے اور زیادہ مہر کی کوئی مقدار مقرر نہیں۔ حسب حیثیت جتنا مهر رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں، اس پر فقہاء کا اجماع ہے، تاہم مہر میں اعتدال اور میانہ روی بہتر ہے۔

2- "مہرِ فاطمی" کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، تو اس حساب سے "مہر فاطمی" پانچ سو درہم بنتے ہیں۔
موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی بنتی ہے۔
اور آج کل کے مروجہ گرام کے حساب سے ایک کلو پانچ سو تیس (530) گرام اور نو سو (900) ملی گرام چاندی بنتی ہے۔
واضح رہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے، چاندی کے حساب سے اس کی مقدار تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام (30.618) اور تولہ کے حساب سے 31.5 ماشہ چاندی بنتی ہے۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بقیہ تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور بناتِ طاہرات رضی اللہ عنہن کا مہر پانچ سو درھم (ایک سو اکتیس (۱۳۱) تولے تین ماشے چاندی) تھا اور آج کل کے مروجہ گرام کے حساب سے ایک کلو پانچ سو تیس (530) گرام اور نو سو (900) ملی گرام چاندی بنتی ہے۔
آج مؤرخہ 12/01/2021 کے مطابق کراچی میں ایک تولہ چاندی کی قیمت تقریباً پندرہ سو ستائیس روپے (1527) ہے، لہذا آج کی قیمت کے اعتبار سے ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی کی قیمت تقریباً دو لاکھ چار سو اٹھارہ (200,418.75) روپے بنتی ہے۔
اسی کو مہر فاطمی بھی کہا جاتا ہے اور اتنا ہی مہر رکھنا مستحب و پسندیدہ ہے۔
نیز واضح رہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے، چاندی کے حساب سے اس کی مقدار تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام (30.618) اور تولہ کے حساب سے 31.5 ماشہ چاندی بنتی ہے۔
3- لڑکی کی شادی سے پہلے کے تمام اخراجات والد کے ذمہ ہیں،اس لیے لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس کی شادی کروانا اور شادی کے ضروری اخراجات اٹھانا عرفاً والدین کے ذمہ ہیں، البتہ اس سلسلے میں اپنی حیثیت کو ملحوظ رکھنا چاہیے، بلا ضرورت قرض لینا فضول خرچی کے زمرے میں آتا ہے، نیز ان اخراجات کے عوض مہر میں اضافہ کرنا بھی درست نہیں ہے، جبکہ مہر خالصتاً لڑکی کی ملکیت ہے، اس میں والد کا حصہ نہیں ہے، البتہ اگر لڑکے والے بطور تعاون کچھ رقم دیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (باب الصداق وجواز کونہ تعلیم قران، رقم الحدیث: 1426، 1042/2، ط: دار احياء التراث العربي)
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ کَمْ کَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اﷲِ؟ قَالَتْ کَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَةٍ فَتِلْکَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اﷲِ لِأَزْوَاجِهِ.

مصنف ابن ابی شیبة: (رقم الحدیث: 16373، 493/3، مکتبة الرشد)
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاهِيْمَ قَالَ صَدَاقُ بَنَاتٍ النَّبِيِّ وَصَدَاقُ نِسَائِهِ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ.

بدائع الصنائع: (276/2، ط: دار الکتب العلمیة)
وأما بيان أدنى المقدار الذي يصلح مهرا فأدناه عشرة دراهم أو ما قيمته عشرة دراهم، وهذا عندنا".
((ولنا) قوله تعالى: {وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم} [النساء: 24] شرط سبحانه وتعالى أن يكون المهر مالا.
والحبة والدانق ونحوهما لا يعدان مالا فلا يصلح مهرا، وروي عن جابر - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا مهر دون عشرة دراهم» ، وعن عمر وعلي وعبد الله بن عمر - رضي الله عنهم - أنهم قالوا: لا يكون المهر أقل من عشرة دراهم، والظاهر أنهم لأنه باب لا يوصل إليه بالاجتهاد والقياس؛ ولأنه لما وقع الاختلاف في المقدار يجب الأخذ بالمتيقن وهو العشرة.
وأما الحديث ففيه إثبات الاستحلال، إذا ذكر فيه مال قليل لا تبلغ قيمته عشرة.

الدر المختار مع رد المحتار: (612/3)
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن.
(قوله: لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال: جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل: أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر (قوله: يعم الأنثى والجمع) أي يطلق على الأنثى كما علمته، وعلى الجمع كما في قوله تعالى: {أو الطفل الذين لم يظهروا} [النور: 31] فهو مما يستوي فيه المفرد والجمع كالجنب والفلك والإمام - {واجعلنا للمتقين إماما} [الفرقان: 74]- ولاينافيه جمعه على أطفال أيضاً كما جمع إمام على أئمة أيضاً فافهم.... (قوله: كأنثى مطلقاً) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة ... (قوله: وزمن) أي من به مرض مزمن، والمراد هنا من به ما يمنعه عن الكسب كعمى وشلل، ولو قدر على اكتساب ما لايكفيه فعلى أبيه تكميل الكفاية".

فتاوی محمودیہ: (271/17، ط: دار الاشاعت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 5388 Jan 09, 2021
mojooda zamane mein mohar ki kitni, mohar Fatimy kya hai aur kitna hai, mohar ,, What is a reasonable amount in today's time for haq mehr, What is mehr e fatimi and how much it is, Is it responsibility of father to spend money on wedding of daughter, Can he increase amount of haq mehr due to these expenditures, now adays, bear expense, expense, expenditure on wedding, Do father pays for the daughters wedding, the brides parents are responsible for, the grooms parents are responsible for

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.