سوال:
جناب عالی! گزارش عرض ہے کہ آپ کے سامنے ایک مسئلہ عرض کر رہا ہوں۔
میری بیٹی نے اپنی مرضی سے گھر سے جا کر نکاح کیا تھا، جس سے دونوں کے گھر والے راضی نہیں تھے، انہوں نے کورٹ میرج کی، لیکن چار دن اس لڑکے نے اسے اپنے ساتھ رکھا، پھر یہ کہہ کر میرے پاس چھوڑ گیا کہ "میں اپنے گھر والوں کو لے کر آتا ہوں۔" اور ہر طرف سے رابطہ ختم کر دیا۔
اس دوران میں اس کے چچا کو کافی مرتبہ فون کرتا رہا اور اس لڑکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، آٹھ دن کے بعد اس لڑکے کی آواز میں مجھے طلاق دے دی گئی، شوہر نے لڑکی کو فون/وائس میسج کے ذریعے طلاق کے الفاظ کہے، وائس میسج میں شوہر نے لڑکی کا نام لے کر تقریباً اس طرح کہا:"میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔" جس کی ریکارڈنگ میرے پاس محفوظ ہے، میں نے خود طلاق نامہ بھی تیار کروایا کہ وہ لوگ دستخط کر دیں، لیکن انہوں نے اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے چچا نے کہا تھا کہ "کچھ دن میں کاغذات بھیج رہا ہوں"، لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود انہوں نے کچھ نہیں بھیجا اور نہ ہی لڑکے کا کوئی پتہ چل سکا، اس کے بعد شوہر نے کسی یونین کونسل یا سرکاری دفتر میں طلاق کا کوئی نوٹس نہیں دیا اور نہ ہی طلاق کے کاغذات مکمل کیے، لڑکی تقریباً ایک سال سے الگ رہ رہی ہے اور اپنی عدت بھی گزار چکی ہے، اب شوہر سے طلاق کے کاغذات پر دستخط کروانے یا تعاون کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ تعاون نہیں کر رہا اور وقت بھی نہیں دے رہا، ہم فی الحال عدالت نہیں جانا چاہتے۔ براہِ کرم ان سوالات کا شرعی جواب تحریری فتویٰ کی صورت میں عطا فرمائیں:
1) کیا مذکورہ وائس میسج میں کہے گئے الفاظ سے شرعاً طلاق واقع ہو گئی ہے؟
2) اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
3) کیا لڑکی اب شرعاً اپنے سابق شوہر سے نکاح ختم سمجھ کر آئندہ نکاح کر سکتی ہے؟
4) اگر شرعی طور پر طلاق ثابت ہو جائے تو کیا اس کے لیے کسی مزید شرعی کارروائی کی ضرورت ہے؟
5) چونکہ شوہر سرکاری کاغذات کے لیے تعاون نہیں کر رہا، اس صورت میں لڑکی کو شرعی اور قانونی طور پر آگے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟
6) کیا دارالافتاء کا تحریری فتویٰ اس معاملے میں سرکاری طلاق سرٹیفکیٹ یا عدالت کی ڈگری کا متبادل ہے یا سرکاری طور پر الگ کارروائی ضروری ہوگی؟
ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں شرعی اور قانونی دونوں پہلو واضح ہو جائیں تاکہ لڑکی کے مستقبل کے نکاح کے معاملے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
جواب: واضح رہے کہ مفتی کو علمِ غیب نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوال میں دی گئی معلومات کے مطابق جواب دیتا ہے، لہذا سوال میں بیان کردہ تفصیلات کے سچا یا خلاف واقع ہونے کی ذمہ داری سوال پوچھنے والے پر ہوتی ہے۔
نیز واضح رہے کہ والدین کی رضامندی اور سرپرستی کے بغیر نکاح کرنا اخلاقی طور پر ناپسندیدہ ہے، تاہم اگر کسی بالغہ لڑکی نے تمام شرعی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے کورٹ میرج کرلی ہو تو ایسا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے، شرعی طور پر نکاح صحیح ہوجانے کے بعد شوہر کی طرف سے دی گئی طلاقیں بیوی کے سامنے دی گئی ہوں یا فون پر یا تحریری طور پر ہر صورت میں واقع ہوجاتی ہیں۔ اس وضاحت کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1, 2) سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق شوہر نے وائس میسج میں طلاق کے صریح الفاظ ادا کیے ہیں: "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔" اگر یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو کہ وہ میسج شوہر ہی کا ہے تو ان الفاظ سے شرعاً آپ کی لڑکی پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جس کی بنا پر وہ لڑکی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے۔
3, 4) طلاق کے بعد سے تین ماہواری عدت گزارنے کے بعد مذکورہ لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اس کے بعد مزید کسی شرعی کارروائی کی ضرورت نہیں، لہذا لڑکی کے والدین اپنی بچی کا نکاح کہیں اور کراسکتے ہیں۔
5,6) سرکاری کاغذات اور قانونی کارروائی کے بارے میں صحیح رہنمائی کسی ماہرِ قانون ہی سے مل سکتی ہے، اس لیے آپ ان سے مشورہ کر لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهداية: (191/1،ط: ط: دار احیاء التراث العربي)
"وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف" رحمهما الله "في ظاهر الرواية ... ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء
الفتاوى الهندية: (355/1)
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی