سوال:
میرا ایزی پیسہ (Easypaisa) اکاؤنٹ ہے، اگر میں اس میں ڈھائی لاکھ روپے رکھتا ہوں تو بل جمع کروانے یا موبائل پیکیج لگوانے کے وقت کمپنی مجھ سے کوئی کٹوتی نہیں کرتی، لیکن اگر اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے سے کم رقم ہو تو ان کاموں پر کمپنی مجھ سے کٹوتی کرتی ہے، اس کٹوتی سے بچنے کے لیے میں اپنے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے رکھتا ہوں۔
اس رقم اکاؤنٹ میں رکھنے کی وجہ سے کمپنی کی طرف سے مجھے ہر ہفتے 35 روپے ملتے ہیں، میں نے کمپنی سے درخواست بھی کی کہ یہ رقم ملنا بند ہو جائے، لیکن کمپنی کی طرف سے اسے بند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی یہ رقم بند ہو رہی ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کمپنی کی طرف سے ملنے والے ان 35 روپے کو میں خود استعمال نہیں کرتا، بلکہ کسی غریب اور مستحق شخص کو دے دیتا ہوں۔ کیا میرے لیے اس رقم کو کسی غریب کو دینا جائز ہے؟ کیا اس طرح دینے سے میں سود کے گناہ سے بری ہو جاؤں گا یا اس صورت میں بھی مجھ پر گناہ ہوگا؟ براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء
جواب: پوچھی گئی صورت میں ایزی پیسہ (Easypaisa) اکاؤنٹ میں مخصوص رقم رکھوانے کے عوض ملنے والے مشروط منافع/فائدے (Conditional benefits) یعنی بل جمع کرانے، موبائل پیکجج کروانے پر کٹوتی نہ کرنا اور ہفتہ وار 35 روپے دینا، قرض پر نفع حاصل کرنے کی صورت ہے جو کہ شرعاً سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
السنن الکبری للبیہقي: (باب کل قرض جر منفعة، رقم الحدیث: 11092، ط: دار الفکر)
عن فضالة بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنه قال: کل قرض جر منفعة فہو وجه من وجوہ الربا۔
بدائع الصنائع: (395/7، ط: دار الکتب العلمیة)
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی