resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: بہن بہنوئی کے ساتھ محرم کے بغیر عمرے پر جانے کا شرعی حکم

(65739-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میری بڑی بہن اور ان کے شوہر عمرے پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ عمرہ کرنا چاہتی ہوں۔ میری رہائش پاکستان میں ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے کیا بہنوئی میرے لیے محرم شمار ہوں گے؟ اگر نہیں تو کیا میں اپنی بڑی بہن اور بہنوئی کے ساتھ محرم کے بغیر عمرے کے لیے سفر کر سکتی ہوں؟
سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے محرم کے بغیر عمرے کی اجازت کے اعلان کے بارے میں بھی رہنمائی فرما دیں کہ کیا اس صورت میں شرعاً سفر کرنا جائز ہے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں تاکہ میں شرعی حکم کے مطابق فیصلہ کر سکوں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ عورت کے لیے شرعی سفر (48 میل یا 77.24 کلومیٹر) میں شوہر یا کسی محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے، جبکہ عورت کے لیے اس کا بہنوئی (بہن کا شوہر) شرعی محرم نہیں ہے، بلکہ وہ نامحرم ہے، لہٰذا عورت کا محرم کے بغیر محض بڑی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرے کے سفر پر جانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
رہا یہ مسئلہ کہ سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کو محرم کے بغیر عمرے کی اجازت دی گئی ہے، اس سلسلہ میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ حکومتی اجازت اور شرعی حکم دو الگ امور ہیں، سرکاری اجازت ملنے سے شرعی محرم کی شرط ختم نہیں ہوجاتی۔ چنانچہ فقہِ حنفی کے مطابق پاکستان سے عمرے کے سفر پر جانے کے لیے عورت کا اپنے شوہر یا شرعی محرم کے ساتھ جانا ضروری ہے، محرم کے بغیر جانے سے گناہ گار ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحیح البخاري: (کتاب جزاء الصید، بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ:، رقم الحدیث: 1862، ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو، عن ابي معبد مولى ابن عباس، عن ابن عباس رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا تسافر المراة إلا مع ذي محرم، ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها محرم"، فقال رجل: يا رسول الله، إني اريد ان اخرج في جيش كذا وكذا، وامراتي تريد الحج، فقال: اخرج معها.

*صحيح مسلم: (رقم الحديث: 1338، ط: دار إحياء التراث العربي)*
وحدثنا محمد بن رافع. حدثنا ابن أبي فديك. أخبرنا الضحاك عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "‌لا ‌يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، ‌تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم".

*الفتاویٰ التاتارخانیة: (474/3، ط: زکریا)*
والمحرم في حق المرأۃ شرط، شابۃ کانت أو عجوزۃ إذا کانت بینہا وبین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah