resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: والدین کی اجازت کے بغیر دوسرے ملک میں نکاح کرکے رہائش اختیار کرنے کا حکم

(65740-No)

سوال: میں پاکستان کا رہائشی ہوں اور بنگلہ دیش کی ایک مسلمان لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، میرا ارادہ ہے کہ نکاح کے بعد بنگلہ دیش میں اس کے ساتھ رہائش اختیار کروں۔
میرے والدین پاکستان میں رہتے ہیں، الحمدللہ! والد صاحب کا کام اچھا ہے، والدہ صحت مند ہیں اور کام کرتی ہیں، میرے بہن بھائی بھی پاکستان میں موجود ہیں، میں بنگلہ دیش منتقل ہونے کے بعد بھی اپنے والدین کے اخراجات میں مالی مدد کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں پاکستان میں ہی رہوں اور وہ میرے بنگلہ دیش منتقل ہونے سے راضی نہیں ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں والدین کی اجازت کے بغیر بنگلہ دیش منتقل ہو کر نکاح کرنا اور وہاں رہنا شرعاً جائز ہے؟ کیا اس عمل سے میں والدین کا نافرمان شمار ہوں گا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں جب آپ کے والدین آپ کے بنگلہ دیش منتقل ہونے اور وہاں نکاح کرکے مستقل رہائش اختیار کرنے پر راضی نہیں ہیں تو اگر آپ کے وہاں سکونت اختیار کرنے سے ان کو غیر معمولی تکلیف پہنچے، یا وہ خدمت وغیرہ میں آپ کے محتاج ہوں یا مثلاً: وہ نان و نفقہ کے محتاج ہوں اور وہاں سے ان کے لیے نان ونفقہ کا انتظام نہ کیا جاسکتا ہو تو اس صورت میں ان کی رضامندی کے بغیر بنگلہ دیش میں شادی کرنا اور وہاں مستقل سکونت کرنا درست نہیں، بلکہ یہ ان کی نافرمانی شمار ہوگا، اس لیے اس صورت میں آپ کو چاہیے کہ اس اقدام سے اجتناب کریں اور والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
تاہم اگر والدین کو اس سے غیر معمولی تکلیف نہ ہو، نیز وہ خدمت و دیکھ بھال میں آپ کے محتاج نہ ہوں، اور نہ ہی نان و نفقہ میں آپ کے محتاج ہوں یا اگر نان ونفقہ میں محتاج تو ہوں مگر آپ دوسرے مُلک سے ان کے نان ونفقہ کا انتظام کرتے رہیں تو آپ کے لیے اس صورت میں ایسا کرنا جائز ہے، تاہم بہتر اور مناسب صورت یہی ہے کہ دوسرے ملک میں شادی کرنے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے والدین کی اجازت اور رضامندی حاصل کرلی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تفسير القرطبي: (الاسراء، 238/10، ط: دار الكتب المصرية)
‏الرابعة- عقوق الوالدين: مخالفتهما في أغراضهما الجائزة لهما، كما أن برهما موافقتهما على أغراضهما.

‏التفسير المظهري: (لقمان، 256/7، ط: مكتبة الرشدية)
‏(مسألة) لا يجوز إطاعة الوالدين إذا أمرا بترك فريضة أو إتيان مكروه تحريما؛ لأن ترك الامتثال لأمر الله والامتثال لأمر غيره إشراك معنى، ولما روينا من قوله عليه السلام: «لا طاعة للمخلوق في معصية الخالق». ويجب إطاعتهما إذا أمرا بشيء مباح لا يمنعه العقل والشرع.

الفتاوى الهندية: (366/5، ط: دار الفكر)
‏وقال محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير: إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه، فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما، فإنه لا يخرج بغير إذنهما، سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه. وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه، إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما، وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما، كذا في الذخيرة.

رد المحتار: (408/6، ط: دار الفكر)
‏فلو في سفر تجارة أو حج لا بأس به بلا إذن الأبوين إن استغنيا عن خدمته؛ إذ ليس فيه إبطال حقهما، إلا إذا كان الطريق مخوفا كالبحر فلا يخرج إلا بإذنهما وإن استغنيا عن خدمته، ولو خرج المتعلم وضيع عياله يراعى حق العيال. اه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah