سوال:
میزان بینک کے تحت اگر کوئی شخص گھر خریدتا ہے، مثلاً: ایک ایسا گھر جس کی اصل قیمت ایک کروڑ روپے ہو اور خریدار کے پاس 25 لاکھ روپے موجود ہوں تو وہ میزان بینک کی فنانسنگ اسکیم کے ذریعے گھر خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
خریدار بینک کو پانچ سال کے عرصے میں تمام ادائیگیاں کرنے پر رضامند ہوتا ہے۔ پانچ سال بعد تمام ادائیگیاں مکمل ہونے پر گھر کی مجموعی قیمت ایک کروڑ دس لاکھ روپے بنتی ہے، یعنی خریدار نے گھر کی اصل قیمت سے دس لاکھ روپے زیادہ ادا کیے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافی رقم سود (ربا) شمار ہوگی، جو اسلام میں حرام ہے، یا اسلامی اصولوں کے مطابق یہ معاملہ جائز ہے؟
میزان بینک کا دعویٰ ہے کہ اس کی فنانسنگ کا طریقہ ’’شرکت الملک‘‘ پر مبنی ہے، جس کے تحت بینک اور خریدار مشترکہ طور پر جائیداد کے مالک ہوتے ہیں۔ خریدار بینک کے حصے کے عوض ایک متعین کرایہ ادا کرتا ہے اور ساتھ ساتھ بینک کے حصے کو بتدریج خریدتا بھی رہتا ہے۔ جب تمام ادائیگیاں مکمل ہو جاتی ہیں تو گھر کی مکمل ملکیت خریدار کو منتقل ہو جاتی ہے۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ خریدار بالآخر گھر کی اصل قیمت سے زیادہ رقم ادا کرتا ہے، کیا یہ معاملہ سود (ربا) کے زمرے میں آتا ہے یا حقیقتاً شریعت کے مطابق جائز معاملہ ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت سود کی صورت نہیں ہے، بلکہ گھر کی فائنانسنگ (Home Financing) لینے کا اسلامی طریقہ ہے، جسے "شرکت متناقصہ" (Diminishing Musharakah) کہا جاتا ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی زیرِ نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دے رہا ہو، اس کے ساتھ گھر کی فائنناسنگ کا مذکورہ معاملہ کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المعايير الشرعية: (345...347)
٥/١ ﺍﻟﻤﺸﺎﺭﻛﺔ ﺍﻟﻤﺘﻨﺎﻗﺼﺔ ﻋﺒﺎﺭﺓ ﻋﻦ ﺷﺮﻛﺔ ﻳﺘﻌﻬﺪ ﻓﻴﻬﺎ ﺃﺣﺪ ﺍﻟﺸﺮﻛﺎﺀ ﺑﺸﺮﺍﺀ ﺣﺼﺔ ﺍﻵﺧﺮ ﺗﺪﺭﻳﺠﻴﺎ ﺇﻟﻰ ﺃﻥ ﻳﺘﻤﻠﻚ ﺍﻟﻤﺸﺘﺮﻱ ﺍﻟﻤﺸﺮﻭﻉ ﺑﻜﺎﻣﻠﻪ. ﻭﻻ ﺑﺪ ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ ﻏﻴﺮ ﻣﺸﺘﺮﻁ ﻓﻴﻬﺎ ﺍﻟﺒﻴﻊ ﻭﺍﻟﺸﺮﺍﺀ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﺘﻌﻬﺪ ﺍﻟﺸﺮﻳﻚ ﺑﺬﻟﻚ ﺑﻮﻋﺪ ﻣﻨﻔﺼﻞ ﻋﻦ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ، ﻭﻛﺬﻟﻚ ﻳﻘﻊ ﺍﻟﺒﻴﻊ ﻭﺍﻟﺸﺮﺍﺀ ﺑﻌﻘﺪ ﻣﻨﻔﺼﻞ ﻋﻦ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ، ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﺃﺣﺪ ﺍﻟﻌﻘﺪﻳﻦ ﻓﻲ ﺍﻵﺧﺮ.
٥/٣ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺍﺷﺘﺮﺍﻁ ﺗﺤﻤﻞ ﺃﺣﺪ ﺍﻟﺸﺮﻳﻜﻴﻦ ﻭﺣﺪﻩ ﻣﺼﺮﻭﻓﺎﺕ ﺍﻟﺘﺄﻣﻴﻦ ﺃﻭ اﻟﺼﻴﺎﻧﺔ ﻭﻟﻮ ﺑﺤﺠﺔ ﺃﻥ ﻣﺤﻞ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ ﺳﻴﺌﻮﻝ ﺇﻟﻴﻪ.
٥/٧ ﻳﺠﻮﺯ ﺇﺻﺪﺍﺭ ﺃﺣﺪ ﺍﻟﺸﺮﻳﻜﻴﻦ ﻭﻋﺪﺍ ﻣﻠﺰﻣﺎ ﻳﺤﻖ ﺑﻤﻮﺟﺒﻪ ﻟﺸﺮﻳﻜﻪ ﺗﻤﻠﻚ ﺣﺼﺘﻪ ﺗﺪﺭﻳﺠﻴﺎ ﻣﻦ ﺧﻼﻝ ﻋﻘﺪ ﺑﻴﻊ ﻋﻨﺪ ﺍﻟﺸﺮﺍﺀ ﻭﺑﺤﺴﺐ ﺍﻟﻘﻴﻤﺔ ﺍﻟﺴﻮﻗﻴﺔ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺣﻴﻦ ﺃﻭ ﺑﺎﻟﻘﻴﻤﺔ ﺍﻟﺘﻲ ﻳﺘﻔﻖ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻋﻨﺪ ﺍﻟﺸﺮﺍﺀ. ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺍﺷﺘﺮﺍﻁ ﺍﻟﺒﻴﻊ ﺑﺎﻟﻘﻴﻤﺔ ﺍﻻﺳﻤﻴﺔ.
٥/٩ ﻳﺠﻮﺯ ﻷﺣﺪ ﺃﻃﺮﺍﻑ ﺍﻟﺸﺮﻛﺔ ﺍﺳﺘﺌﺠﺎﺭ ﺣﺼﺔ ﺷﺮﻳﻜﻪ ﺑﺄﺟﺮﺓ ﻣﻌﻠﻮﻣﺔ ﻭﻟﻤﺪﺓ ﻣﺤﺪﺩﺓ ﻣﻬﻤﺎ ﻛﺎﻧﺖ، ﻭﻳﻈﻞ ﻛﻞ ﻣﻦ ﺍﻟﺸﺮﻳﻜﻴﻦ ﻣﺴﺌﻮﻻ ﻋﻦ ﺍﻟﺼﻴﺎﻧﺔ ﺍﻷﺳﺎﺳﻴﺔ ﻟﺤﺼﺘﻪ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺣﻴﻦ.
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی