resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: ہوٹل کے کاغذات میں میاں بیوی کی حیثیت سے اندراج کروانے سے نکاح منعقد ہونے اور بغیر نکاح کے اکٹھے رہنے کا شرعی حکم

(67258-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! ایک پیچیدہ اور نہایت اہم مسئلے میں آپ کی رہنمائی اور شرعی فتویٰ درکار ہے، اس معاملے میں آپ کی فوری رہنمائی ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایک بالغ مرد اور بالغ عورت کچھ عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں تھے، تاہم ان کی شادی ہونے سے پہلے وہ دونوں ایک رہائشی ہوٹل میں اکٹھے گئے، ہوٹل کے استقبالیہ پر کام کرنے والے دو بالغ افراد کے سامنے انہوں نے اپنا تعارف میاں بیوی کی حیثیت سے کروایا۔ جب استقبالیہ کے عملے نے ان سے نکاح نامہ دکھانے کو کہا تو وہ ایسا نہ کر سکے، بعد ازاں انہوں نے یہ کہہ کر معاملہ حل کیا کہ وہ مستقبل میں شادی کر لیں گے۔
بعد میں جب ہوٹل کے فارم اور دستاویزات مکمل کی جا رہی تھیں تو استقبالیہ کے عملے نے انہیں میاں بیوی کی حیثیت سے اپنی شناخت درج کرنے کی ہدایت کی، اس پر مرد نے ہوٹل کی دستاویزات میں شوہر اور بیوی کے لیے مخصوص خانوں میں دونوں کے نام لکھے اور عورت سے دستخط کرنے کو کہا۔ عورت نے زبانی طور پر کچھ کہے بغیر دستاویز پر دستخط کر دیے، ہوٹل کی دیگر دستاویزات میں بھی انہوں نے اپنا تعارف میاں بیوی کی حیثیت سے کروایا اور متعلقہ کاغذات پر دستخط کیے، ہوٹل کے استقبالیہ پر موجود دونوں بالغ افراد اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فارم مکمل کرنے میں ان کی مدد بھی کی۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ نہ مرد نے اور نہ عورت نے زبانی طور پر ایجاب و قبول سے متعلق کوئی الفاظ کہے، مثلاً ”میں نے آپ کو اپنا شوہر قبول کیا“، ”میں نے آپ کو اپنی بیوی قبول کیا“ یا ”میں نے آپ سے نکاح کیا“۔ مرد نے صرف عورت سے دستاویز پر دستخط کرنے کو کہا اور عورت نے دستخط کر دیے۔
ہوٹل کی دستاویزات کے متعلق صرف انہی باتوں کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اپنا تعارف میاں بیوی کی حیثیت سے کروایا، شوہر اور بیوی کے لیے مخصوص خانوں میں اپنے نام لکھے اور دستاویزات پر دستخط کیے۔
اس کے بعد وہ کچھ عرصے تک اس ہوٹل میں اکٹھے رہے اور ان کے درمیان ناجائز تعلق قائم ہوا، اب دونوں اپنے کیے پر بہت نادم ہیں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کر چکے ہیں۔ ہم فقہِ حنفی کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات جاننا چاہتے ہیں:
1) کیا مذکورہ واقعے کی بنیاد پر دو بالغ افراد کے سامنے زبانی طور پر اپنا تعارف میاں بیوی کی حیثیت سے کروانے، ہوٹل کی دستاویزات میں شوہر اور بیوی کے خانوں میں اپنے نام لکھنے اور ان پر دستخط کرنے سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے؟
2) بعد ازاں ایک بحث کے دوران مرد نے عورت سے طلاق کے کنایہ الفاظ کہے: ”جا کر کسی دوسرے مرد کو تلاش کر لو“، اور اس وقت اس کی نیت طلاق دینے کی تھی۔ کیا فقہِ حنفی کے مطابق ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی؟ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے وقت، علم اور رہنمائی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین

جواب: واضح رہے کہ نکاح کے منعقد ہونے کے لیے شرعی شرائط کے مطابق باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اگر واقعتاً درست ہیں اور مذکورہ لڑکے اور لڑکی نے دو مردوں کے سامنے نکاح کے لیے باقاعدہ ایجاب و قبول نہیں کیا ہے، بلکہ حقیقت کے خلاف غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے ہوٹل کے کاغذات میں اپنا اندراج میاں بیوی کی حیثیت سے کروایا ہے تو محض اس اندراج سے ان کے درمیان شرعی نکاح منعقد نہیں ہوا ہے، اور نہ ہی ایسے نکاح کے بعد دی جانے والی کسی طلاق کا اعتبار ہوگا۔
تاہم غلط بیانی کرنے اور اتنے عرصے تک میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنے کی وجہ سے دونوں بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں اور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الهداية: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)*
قال: "النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي " لأن الصيغة وإن كانت للإخبار وضعا فقد جعلت للإنشاء شرعا دفعا للحاجة".

*فيه أيضاً: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)*
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah