عنوان: ہرنیا کی بیماری میں مبتلا بکرے کی قربانی کا حکم (106820-No)

سوال: مفتی صاحب ! ایک بکرا ہرنیا کی وجہ سے جفتی کرنے پر قادر نہیں ہے تو کیا اس کی قربانی جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ہر وہ عیب جو جانور کے گوشت پر اثر انداز نہ ہو اور اس سے جانور کا جمال بھی بالکلیہ ختم نہ ہو، تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔
اور اگر عیب ایسا ہوکہ جواس جانور کے گوشت پر اثر انداز ہو یا اس سے جانورکی منفعت یا جمال بالکلیہ ختم ہوجائےتو اس جانور کی قربانی درست نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں ہرنیا کی بیماری ایسا عیب نہیں ہے، جواس جانور کے گوشت پر اثر انداز ہو، اس لیے ہرنیا کی بیماری والے بکرے کی قربانی درست ہے۔باقی رہا یہ کہنا کہ ہرنیا کی وجہ سے بکرا جفتی کرنے پر قادر نہیں ہے تو چونکہ خصی جانور کی قربانی جائز ہے لہذا مذکورہ بکرے کی قربانی بھی جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی الفقہ الاسلامی و ادلته:

سلامة الحيوان المضحى به من العيوب الفاحشة التي تؤدي عادة إلى نقص اللحم أو تضر بالصحة.

(ج:۴، ص:۲۵۱، ط:دارالفکر)

وفی الموسوعةالفقھیة الکویتیة:

( الشرط الثالث ) : سلامتها من العيوب الفاحشة ، وهي العيوب التي من شأنها أن تنقص الشحم أو اللحم

(ج:۵،ص:۸۳،ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)


وفی البحر الرائق:

ويضحي بالجماء۔۔۔۔۔ (والخصي) وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - هو أولى لأن لحمه أطيب وقد صح أنه - عليه الصلاة والسلام - «ضحى بكبشين أملحين موجوءين» الأملح الذي فيه ملحةوهو البياض الذي فيه شعيرات سود وهو من لون الملح، والموجوء المخصي من الوجء وهو أن يضرب عروق الخصية بشيء۔

(ج:۸، ص:۲۰۱،ط: دار الكتاب الإسلامي)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 288
harniya ki beemari mai mubtala bakray ki qurbani ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.