resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: داڑھی منڈانے والے کی امامت اور مصلّٰی میں علیحدگی اختیار کرنے کا شرعی حکم

(68313-No)

سوال: محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته! درج ذیل چند امور کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے:
1) ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جس کی داڑھی جزوی طور پر کٹی ہوئی ہو یا اس نے مکمل طور پر داڑھی منڈوائی ہوئی ہو؟ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی؟ نیز کیا ایسے شخص کو امام بنانا یا اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا شرعاً پسندیدہ عمل ہے یا نہیں؟
2) اگر کسی مسجد میں ایک سے زائد جماعتیں ہوتی ہوں (یعنی مسجد مُصلّٰی کی حیثیت رکھتی ہو) اور وہاں نماز کی جماعت قائم ہو، جس میں اکثریت نمازی امام کے پیچھے نماز ادا کر رہی ہو، لیکن ایک یا دو افراد داڑھی کے مذکورہ مسئلے کی بنیاد پر اس جماعت میں شامل ہونے کے بجائے الگ ہو جائیں، خواہ انفرادی نماز پڑھیں یا اپنی الگ جماعت قائم کر لیں، تو اس عمل کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
3) اگر چند افراد کے اس طرح الگ ہونے سے مسجد میں موجود دیگر نمازیوں کے درمیان بے چینی، بدگمانی، اختلاف یا غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً ان افراد کے لیے کیا طرزِ عمل اختیار کرنا مناسب ہے؟ کیا محض اس اختلاف کی بنیاد پر جماعت سے علیحدگی اختیار کرنا درست ہوگا، یا امت کا اتحاد اور نمازیوں کے درمیان اتفاق و یکجہتی کو برقرار رکھنے کی خاطر موجودہ جماعت میں شامل ہونا بہتر ہوگا؟
خصوصی وضاحت: سوال کا تعلق ایسی مسجد یا مُصلّٰی سے ہے جہاں ایک سے زائد جماعتیں قائم ہوتی ہوں، اس لیے رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورتِ حال میں انفرادی طور پر الگ نماز پڑھنے یا الگ جماعت قائم کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور ترجیحی و مستحب عمل کون سا ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء

جواب: (1)داڑھی منڈانے والے شخص کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے، تاہم داڑھی منڈے کی اقتدا میں نماز ادا ہوجائے گی اور جماعت ترک کرنے کی بنسبت اس کی اقتدا میں باجماعت نماز ادا کرنا زیادہ بہتر ہے۔
(2)مذکورہ جگہ مسجدِ محلہ نہیں بلکہ مصلّٰی ہے، جہاں متعدد جماعتیں ہونے کا معمول ہے، لہٰذا کراہتِ تحریمی سے بچنے کے لیے کسی باشرع شخص کا مذکورہ امام کی جماعت میں شریک نہ ہونا اور بعد میں باشرع ساتھیوں کے ساتھ الگ جماعت کرلینا جائز ہے، اس صورت میں ان پر کوئی شرعی گناہ یا ملامت نہیں ہوگی۔
(3)اگر مذکورہ امام کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کی وجہ سے نمازیوں میں جھگڑے، اختلاف یا انتشار پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ حتی الامکان فتنے سے بچنے کی صورت اختیار کی جائے، مثلاً: پہلی جماعت ختم ہونے کے بعد الگ باجماعت نماز پڑھ لی جائے اور اگر علیحدگی اختیار کرنے سے شدید فتنے اور باہمی عداوت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور کوئی دوسری صورت ممکن نہ ہو تو فتنے سے بچنے کی خاطر اس جماعت میں شریک ہونے کی گنجائش ہے، بعد میں اس کا اعادہ ضروری نہیں، مناسب ہے کہ بعد میں حکمت اور رازداری کے ساتھ مذکورہ امام کو شرعی حکم سمجھایا جائے اور آئندہ امامت کے لیے کسی متقی اور باشرع شخص کا انتخاب کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*البحر الرائق: (باب الامامة، 369/1، ط: دار الكتاب الاسلامي)*
قوله وكره إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزنا) بيان للشيئين الصحة والكراهة أما الصحة فمبنية على وجود الأهلية للصلاة مع أداء الأركان وهما موجودان من غير نقص في الشرائط والأركان ومن السنة حديث «صلوا خلف كل بر وفاجر»

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)