عنوان: بوڑھی عورت کی عدتِ وفات(106980-No)

سوال: مفتی صاحب ! میری والدہ کی عمر ٦٥ سال ہے، والد کا انتقال ہونے بعد انکی عدت کی چار ماہ دس دن کی مدت پوری کرنا لازمی ہے یا تین ماہ پورے ہونے پر عدت ختم کرسکتی ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث میں یہ بات نہیں آئی کہ عدت صرف جوان عورتوں کے لیے ہوتی ہے، یہ محض من گھڑت (لوگوں کی بنائی ہوئی) بات ہے، قرآن و حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو عورت
حاملہ نہ ہو، چاہے وہ بوڑھی ہو یا جوان، اس کی عدتِ وفات چار ماہ دس دن ہے، اور اگر حاملہ ہو، چاہے بوڑھی ہو یا جوان، تو اس کی عدت وضع حمل ( بچہ جننے تک) ہے۔

----------------------
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔

(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:234)

وایضاََ قال:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ۔

(سورۃ الطلاق،آیت 4)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 278
borhi orat ki eddat e wafat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.