عنوان: بیمار بیوی کو چھوڑ کر تبلیغ میں جانا(107015-No)

سوال: السلام عليكم، حضرت ! میں ایک جماعت کا امیر ہوں، میرے پاس ایک ادمی آیا ہے، اور کہتا ہے کہ گھر میں اکیلا کمانے والا ہوں، میری بیوی بیمار ہے اور میرے 3 چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، پھر میں نے پوچھا کہ گھر کا خرچہ کہاں سے چلتا ہے تو کہنے لگا کہ ہمارے یہاں جامن کے بہت باغ ہیں، بچے وہاں سے جامن توڑ کے لیکر آتے ہیں، انہیں منڈی میں بیچ دیتے ہیں، اس سے گھر کا خرچہ چلتا ہے، بیوی بچے کہتے ہیں کہ ہم فاقہ کاٹ لیں گے، آپ جماعت میں چلے جائیں۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ اس شخص کا جماعت میں جانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اگر بیوی بچے تنگ دست ہوں، اور سفر پر جانے کی صورت میں ان کےخرچ کا انتظام نہ ہو، یا بیوی ضعیف اور بیمار ہو، اور اس کی خدمت، تیمارداری اور خبرگیری کے لئے کوئی اور موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں بیوی کی اجازت کے بغیر تبلیغ میں جانا درست نہیں ہے۔

البتہ اگر بیوی بچوں کے خرچ کا انتظام ہو، اور اس کے پیچھے بیمار بیوی کی خبرگیری اور تیمارداری کرنے والا کوئی موجود ہو، تو ایسی صورت میں بلا اجازت تبلیغ میں نکلنا درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الصحیح البخاری:

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلاَءِ الْقُعُودُ قَالُوا هَؤُلاَءِ قُرَيْشٌ. قَالَ مَنِ الشَّيْخُ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ. فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ أَتُحَدِّثُنِي، قَالَ أَنْشُدُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَكَبَّرَ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ لأُخْبِرَكَ وَلأُبَيِّنَ لَكَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ». وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ، وَكَانَ بَيْعَةُ الرُّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ». فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ: «هَذِهِ لِعُثْمَانَ». اذْهَبْ بِهَذَا الآنَ مَعَكَ.

(رقم الحدیث:4066)

کما فی الصحیح المسلم:

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ، أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ، قَالَ: «فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟» قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا، قَالَ: «فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا»

(رقم الحدیث:6507)

لما فی الفتاویٰ الھندیۃ:

قال محمدؒ فی السیر الکبیر: اذا اراد الرجل ان یسافر الی غیر الجہاد لتجارۃ او حج او عمرۃ و کرہ ذلک ابواہ فان کان یخاف الضیعۃ علیھما بان کانا معسرین و نفقتھما علیہ، و ما لہ لا یفی بالزاد و الراحلۃ و نفقتھما فانہ لا یخرج بغیر اذنھما .......... و ان کان لا یخاف الضیعۃ علیھما بان کانا موسرین و لم تکن نفقتھما علیہ۔
ان کان سفرا لا یخاف علی الولد الھلاک فیہ کان لہ ان یخرج بغیر اذنھما ........ و کذا الجواب فیما اذا خرج للفقہ۔

(ج:5، ص:365،کتاب الحظر والاباحۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 239
beemar biwi ko chor kar tableegh mai jaana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.