عنوان: کتا پالنے اور کتے کے لعاب کا حکم(107112-No)

سوال: مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ کیا کتا نجس ہے، جبکہ اصحاب کہف میں کتا ساتھ تھا؟ اگر وہ ہمارے کپڑوں کو چھو لے یا زبان لگا دے تو ان کپڑوں میں کیا نماز نہیں پڑھی جاسکتی ہے؟ نیز اس کو گھر میں رکھنا حرام ہے؟

جواب: احادیث مبارکہ میں شوقیہ طور پر کتا پالنے کی سخت ممانعت آئی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا تدخل الملائکة بیتًا فیہ صورة ولا کلب".

(البخاری: ج:5، ص:18، رقم: 4002، ط: بیروت)

ترجمہ:
رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو یا کتا ہو۔

ایک اور حدیث میں وارد ہے:

"من اتخذ کلبًا إلاّ کلب ماشیة أو صید أو زرع انتقص من أجرہ کل یوم قیراط".

(سنن الترمذی، رقم: 149، باب ما جاء من أمسک کلبا)

ترجمہ:
یعنی جس شخص نے جانور اور کھیتی وغیرہ کی حفاظت یا شکار کے علاوہ کسی اور مقصد سے کتا پالا، اس کے ثواب میں ہرروز ایک قیراط کم ہوگا۔

مذکورہ بالا دوحدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ محض شوقیہ طور پر کتا پالنا شرعاً ممنوع ہے، البتہ شکار یا حفاظت کی غرض سے کتا پالا جائے، تو اس کی اجازت ہے۔

اصحابِ کہف کے کتے کو شوقیہ کتا پالنے کے کی دلیل بنانا درست نہیں ہے، تفسیر قرطبی میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ کتا مویشیوں کی حفاظت یا شکار کے لئے ہو، یا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں کتا پالنا جائز ہو۔

کتے کا جسم اگر کسی شخص کے کپڑوں پر لگ جائے اور کتے کا جسم خشک ہو، تو کپڑا ناپاک نہیں ہوگا، لیکن اگر کتے کا جسم پسینے کی وجہ سے گیلا ہو، اور وہ کپڑے کو لگ جائے، یا کتے کا لعاب کپڑے کو لگ جائے اور تری ظاہر ہوجائے، تو ایسی صورت میں کپڑا ناپاک ہوجائے گا، اور کپڑا تین مرتبہ دھونے سے پاک ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

کما فی الجامع لاحکام القرآن للطبری:

وكلبهم باسط ذراعيه بالوصيد.أكثر المفسرين على أنه كلب حقيقة، وكان لصيد أحدهم أو لزرعه أو غنمه؛ على ما قال مقاتل.

(کہف: آیت: 18)

کذا فی الصحیح البخاری:

لا تدخل الملائکة بیتًا فیہ صورة ولا کلب".

(ج:5، ص:18، رقم: 4002، ط: بیروت)

کذا فی السنن الترمذی:

من اتخذ کلبًا إلاّ کلب ماشیة أو صید أو زرع انتقص من أجرہ کل یوم قیراط".

(رقم الحدیث: 149، باب ما جاء من أمسک کلبا)

لما فی سنن الدارقطني:

عن أبي هريرة رضى الله عنه قال:«إذا ولغ الكلب في الإناء فاهرقه ثم اغسله ثلاث مرات». هذا موقوف.

(ج:1، ص:109)

کما فی الفتاوى الهندية:

''وسؤر الكلب والخنزير وسباع البهائم نجس. كذا في الكنز''.

(ج:1، ص:24)

وایضا فی الفتاوى الهنديۃ:

'' الكلب إذا أخذ عضو إنسان أو ثوبه لا يتنجس ما لم يظهر فيه أثر البلل راضياً كان أو غضبان۔ كذا في منية المصلي۔ قال في الصيرفية: هو المختار۔ كذا في شرحها لإبراهيم الحلبي''.

(ج:1، ص:48)

لما فی الموسوعہ الفقہیہ:

السؤر النجس المتفق على نجاسته في المذهب وهو سؤر الكلب والخنزير وسائر سباع البهائم.

(ج:24 ص:102)

کذا فی حاشیۃ ابی داؤد:

عند أبي حنیفة یغسل من ولوغہ ثلٰثا بلا تعفیر کسائر النجاسات

(ج:1، ص:10)

کذا فی فتاوی رحیمیہ:

(ج:10، ص:223)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 402
kutta palnay or kuttay kay luaab ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.