عنوان: وکیل کا ٹکٹ کروانے پر اپنے لئے خفیہ کمیشن رکھنے کا شرعی حکم (107144-No)

سوال: السلام علیکم، ایک ایجنٹ ہے، ایجنٹ اپنا کمیشن لیتا ہے، اس ایجنٹ کے ذریعے میں ٹکٹ بنواتا ہوں تو میں جس کا ٹکٹ بنواتا ہوں، اس سے بغیر بتائے میں کچھ زیادہ روپے لیتا ہوں، تو کیا یہ روپے میرے لیے لینا جائز ہیں؟

جواب: کسی شخص کے کہنے پر اس کیلئے ٹکٹ کروانا توکیل (وکیل بنانے) کا معاملہ ہے٬ اور جائز کام کرنے پر وکالت کی اجرت بھی لی جاسکتی ہے٬ لیکن جس کیلئے کام کر رہے ہوں٬ اس کے ساتھ اجرت طے کیے بغیر٬ درمیان میں خفیہ طور پر اپنا کمیشن رکھنا دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے٬ اس سے بچنا ضروری ہے۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ وکالت کا معاملہ کرتے وقت شروع میں ہی اس کے ساتھ ٹکٹ کرانے کے عوض اجرت (کمیشن) طے کرلی جائے٬ البتہ اگر آپ کا پیشہ ہی یہی ہو٬ اور یہ لوگوں میں مشہور ہو کہ آپ معروف کمیشن پر ٹکٹ کروا کے دیتے ہیں٬ تو ایسی صورت میں صراحتا طے کئے بغیر بھی معروف کمیشن لینے کی گنجائش ہے٬ تاہم ایسی صورت میں بھی اس کی صراحت کرلینا بہتر ہے٬ تاکہ معاملہ صاف ہو جائے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لما في شعب الايمان :

"ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺮﺓ اﻟﺮﻗﺎﺷﻲ، ﻋﻦ ﻋﻤﻪ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: " ﻻ ﻳﺤﻞ ﻣﺎﻝ امرئ ﻣﺴﻠﻢ ﺇﻻ ﺑﻄﻴﺐ ﻧﻔﺲ ﻣﻨﻪ ".

(رقم الحديث : 5106)

وفي صحيح مسلم :

" ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: «ﻻ ﺗﺤﺎﺳﺪﻭا، ﻭﻻ ﺗﻨﺎﺟﺸﻮا، ﻭﻻ ﺗﺒﺎﻏﻀﻮا، ﻭﻻ ﺗﺪاﺑﺮﻭا، ﻭﻻ ﻳﺒﻊ ﺑﻌﻀﻜﻢ ﻋﻠﻰ ﺑﻴﻊ ﺑﻌﺾ، ﻭﻛﻮﻧﻮا ﻋﺒﺎﺩ اﻟﻠﻪ ﺇﺧﻮاﻧﺎ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﺃﺧﻮ اﻟﻤﺴﻠﻢ، ﻻ ﻳﻈﻠﻤﻪ ﻭﻻ ﻳﺨﺬﻟﻪ، ﻭﻻ ﻳﺤﻘﺮﻩ اﻟﺘﻘﻮﻯ ﻫﺎﻫﻨﺎ» ﻭﻳﺸﻴﺮ ﺇﻟﻰ ﺻﺪﺭﻩ ﺛﻼﺙ ﻣﺮاﺕ «ﺑﺤﺴﺐ اﻣﺮﺉ ﻣﻦ اﻟﺸﺮ ﺃﻥ ﻳﺤﻘﺮ ﺃﺧﺎﻩ اﻟﻤﺴﻠﻢ، ﻛﻞ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﺣﺮاﻡ، ﺩﻣﻪ، ﻭﻣﺎﻟﻪ، ﻭﻋﺮﺿﻪ.

(باب تحريم ظلم المسلم وخذله واحتقاره ودمه، رقم الحديث : 2564)

و في مجلة الأحكام العدلية :

"لو خدم أحد آخر بناء على طلبه من دون مقاولة على أجرة فله أجر المثل إن كان ممن يخدم بالأجرة وإلا فلا"

وفی شرح المجلة للاتاسی:

"المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً ای المعروف المعتاد بین الناس وان لم یذکر صریحاً… المعروف بین التجار کالمشروط بینہم"

(المادہ: ۴٣ ۴۴٬ ۴٥٬)

کذا فی فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی: (رقم الفتوی:144109203329)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 229
wakeel ka ticket karwanay par apnay liye khufiya comission rakhne ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.