عنوان: قرض کی رقم کے بدلے میں موٹر سائیکل لینے کا حکم (107227-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک شخص نے کسی کو ایک لاکھ دس ہزار قرضہ دیا، قرضہ لینے والے نے کہا کہ میں تمہیں اس قرضے کی جگہ نیا ہنڈا 125 لے کر دوں گا، چاہے جتنے کا بھی ہو اور اس نے قرضے کی ادائیگی میں نیا ہنڈا 125 لے کر دے دی، جس کی قیمت ایک لاکھ پچیس ہزار تھی، تو کیا اس قرضہ دینے والے کے لئے یہ ہنڈا 125 لینا جائز ہے؟ جبکہ وہ اس کے دیے گئے قرضے کی قیمت سے بھی 15000 زیادہ ہے تو کیا یہ سود کے زمرے میں آئے گا، اگر آئے گا، تو اب کیا کیا جائے، اس کو ہنڈا 125 واپس کیا جائے یا اسکی جو اضافی رقم ہے، وہ واپس کی جائے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔

جواب: واضح رہے کہ قرض کے معاملے میں کسی قسم کا مشروط نفع لینا جائز نہیں ہے٬ بلکہ جتنی رقم بطور قرض دی گئی ہو٬ اتنی ہی رقم کی واپسی ضروری ہے٬ اس سے اضافی رقم یا کوئی منفعت وغیرہ حاصل کرنا سود کے حکم میں ہے٬ جو کہ ناجائز اور حرام ہے٬ اس سے اجتناب لازم ہے، لہذا ایسی صورت میں جتنی رقم قرض کے طور پر دی گئی تھی٬ اتنی ہی رقم واپس لینا ضروری ہے٬ البتہ مذکورہ صورت میں اگر قرض کے نام پر رقم لیتے وقت ہی یہ طے کرلیا گیا ہو کہ اس رقم کے بدلے موٹر سائیکل دی جائے گی٬ تو یہ در حقیقت خرید و فروخت کا معاملہ ہے٬ کیونکہ یہاں پیسوں کے بدلے میں موٹر سائیکل دینا طے کیا جارہا ہے٬ جو کہ خرید و فروخت کی صورت ہے٬ قرض کا لین دین ایک جیسی چیزوں میں (مثلیات) ہوتا ہے٬ جبکہ یہاں ایک طرف پیسے ہیں٬ اور دوسری طرف اس کے عوض میں موٹر سائیکل دینا طے ہوا ہے٬ یہ عقد معاوضہ ہے٬ اور بیع سلم کی تکییف پر یہ معاملہ درست ہوسکتا ہے٬ بیع سلم میں قیمت پیشگی ادا کی جاتی ہے٬ اور بیچی جانے والی چیز بعد میں مقررہ وقت پر حوالے کی جاتی ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں اگر شروع میں ہی یہ طے ہو کہ اتنے پیسوں کے بدلے میں موٹر سائیکل دی جائے گی٬ ساری رقم پیشگی ادا کردی گئی ہو٬ موٹر سائیکل کا ماڈل وغیرہ طے کرلیا گیا ہو٬ اور موٹر سائیکل حوالہ کرنے کی مدت اور جگہ تعیین کی گئی ہو٬ تو مذکورہ بالا معاملہ بیع سلم کی بنیاد پر شرعا درست ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قال اللہ تعالیٰ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

(سورۃ البقرة، الایة: ،279,278)

و فی الصحیح لمسلم:

وفی إعلاء السنن:

"عن فضالۃ ابن عبید رضي اللّٰہ عنہ صاحب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: کل قرض جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ من الربوا"

(۴؍۵۰۱)

و فی الشامیۃ:

"السلم بیع آجل وہو المسلم فیہ بعاجل وہو رأس المال، ورکنہ رکن البیع … ویصح فیما أمکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون … وشرطہ: أي شروط صحتہ التي تذکر فی العقد سبعۃ بیان جنس، وبیان نوع وصفتہ وقدرہ وأجل … وبیان قدر رأس المال … والسابع بیان مکان الإیفاء للمسلم فیہ"

(باب السلم: ۵/ ۲۰۹-۲۱۵ ٬ط. ایچ ایم سعید٬ کراچی)

و فی فقہ البیوع :

"وبما ان السلم یجوز فی العددیات المتقاربۃ،بانہ یجوز فی السیارات و الدراجات والطائرات والثلاجات و المکیفات والادوات المنزلیۃ والکھربائیۃ التی ینضبط نوعھا ووصفہا ومودیلھا ولونھا و نحو ذلک من الاوصاف التی لھا دخل فی رغبۃ المشترین ولاباس بتعیین المصنع او العلامۃ التجاریۃ بشرط ان یکون المسلم فیہ عام الوجود فی محلہ بحکم الغالب عند حلول اجلہ "

(1/ 570 مکتبہ معارف القرآن کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 204
qarz ki raqam kay badlay mai motor cycle kene ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.