عنوان: موئے مبارک اور اس سے برکت حاصل کرنا(107346-No)

سوال: آج کل بعض جگہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی خاص موقع پر ایک برتن میں بال رکھ دیتے ہیں اور اس میں پانی ملا دیتے ہیں اور لوگ بالوں کو حضور اکرم ﷺ کے موئے مبارک سمجھ کر اس کے پانی کو برکت اور شفا کی غرض سے پیتے رہتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ لوگوں کا ان بالوں کو موئے مبارک سمجھنا اور اس کے پانی کو برکت اور شفا کی غرض سے پینا کیسا ہے؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالوں کے موئے مبارک ہونے کی اگر قابلِ اعتماد سند موجود ہو، جس کی وجہ سے ان بالوں کے بارے میں حضور اکرم ﷺ کے موئے مبارک ہونے کا یقین یا ظن غالب حاصل ہو، تو ایسے بالوں کو پانی میں ڈال کر پانی کا پینا، خیر و برکت اور ظاہری و باطنی بیماریوں سے شفایابی کا باعث ہے اور اگر کوئی سند موجود ہو، لیکن قابل اعتماد نہ ہو یا کوئی سند ہی نہ ہو، جیسا کہ آج کل اکثر جگہ یہی حالت ہے، اس صورت میں برکت اور شفا کی غرض سے مذکورہ بالوں کے پانی کا پینا بے فائدہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الصحیح للبخاری:

عن عثمان بن عبد ﷲ بن موھب ؓ قال ارسلنی اھلی الی ام سلمۃ بقدح من ماء وقبض اسرائیل …… فیہ شعر من شعرالنبیﷺ وکان اذا اصاب الانسان عین اوشیٔ بعث الیھا مخضبۃ فاطلعت فی الجلجل فرأیت شعرات حمرا۔

(باب ما يذكر في الشيب، ج: 2، ص: 875)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 187

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com