عنوان: کیا رسول اللہ ﷺ امت کے روحانی باپ ہیں؟(107413-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ آپ ﷺ کی زوجات کو امہات المؤمنین کہا جاتا ہے، لیکن آپ ﷺ کو باپ کیوں نہیں کہا گیا؟

جواب: جناب رسول اللہ ﷺ اگرچہ کسی بھی مسلمان کے نسبی اور حقیقی طور پر باپ نہیں ہیں، لیکن آپ ﷺ روحانی طور پر سب مسلمانوں کے باپ ہیں، اور آپ کی ازواج مطہرات تمام مسلمانوں کی روحانی مائیں ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:
ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمْ ۗ
سورۃاحزاب: ۶)

ترجمہ:
ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔

اس آیت میں ازواج مطہرات کو صراحتاََ امت کی مائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارةً امت کے روحانی باپ قرار دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کا امہات المؤمنین ہونا، آپ ﷺ کی وجہ سے ہے، اگر آپ ﷺ امت کے لیے باپ کی طرح نہ ہوتے، تو آپ کی ازواج، ماؤں کی طرح نہ ہوتیں۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سورۃ احزاب کی مذکورہ بالا آیت اس طرح پڑھتے تھے۔
النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وهو أب لهم وأزواجه أمهاتهم

ترجمہ:
ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں،اور وہ ان کے لیے باپ ہے اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔

اورحضرت ابی ابن کعب سے مروی ایک قرأت میں "وھو اب لھم' یعنی "اور وہ ان کے لیے باپ ہے'' کے الفاظ ہیں۔

اس پر ایک اشکال ہوسکتا ہے کہ اسی سورۃ احزاب کی آیت’’ماکان محمد اباأحدمن رجالکم۔۔۔(سورۃ احزاب :۴۰) سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول للہ ﷺ کسی مسلمان مرد کے باپ نہیں ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں حقیقی اور نسبی والد ہونے کی نفی کی گئی ہے کہ آپ ﷺ کسی مسلمان مرد کے حقیقی اور نسبی والد نہیں ہیں۔

اور ازواج مطہرات کا امت کی مائیں ہونا ادب و احترام کے اعتبار سے ہے، باقی امور مثلاً پردہ، میراث وغیرہ میں وہ اجنبی عورتوں کی طرح ہیں، حقیقی اور نسبی ماں کی طرح نہیں ہیں۔

خلاصہ کلام :
آپ ﷺ روحانی طور پر سب مسلمانوں کے باپ ہیں، جس طرح آپ کی ازواج مطہرات تمام مسلمانوں کی روحانی مائیں ہیں اور اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے:

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنما أنا لكم بمنزلة الوالد، أعلمكم ۔۔۔۔۔۔»
(سنن ابی داؤد،حدیث نمبر:۸،ج:۱،ص:۳،ط:المکتبۃ العصریۃ)

ترجمہ:
میں تمہارے حق میں باپ کی طرح ہوں، اسی بناء پر میں تم کو دین وادب کی تعلیم دیتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
لمافی المستدرک للحاکم:

عن عطاء، عن ابن عباس رضي الله عنهما، «أنه كان يقرأ هذه الآية » النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وهو أب لهم وأزواجه أمهاتهم «» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه "
(حدیث نمبر:۳۵۵۶،ج:۲،ص:۴۵۰،ط:دارالکتب العلمیۃ)

وفی تفسیرالقرآن الکریم لابن کثیر:

وقال تعالى: وأزواجه أمهاتهم أي في الحرمة والاحترام، والتوقير والإكرام والإعظام، ولكن لا تجوز الخلوة بهن ولا ينتشر التحريم إلى بناتهن وأخواتهن بالإجماع
(ج:۶،ص:۳۴۰،ط:دارالکتب العلمیۃ)

وفیہ ایضاً:

وقد روي عن أبي كعب وابن عباس رضي الله عنهما أنهما قرءا النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجه أمهاتهم وهو أب لهم. وروي نحو هذا عن معاوية ومجاهد وعكرمة والحسن، وهو أحد الوجهين في مذهب الشافعي رضي الله عنه، حكاه البغوي وغيره، واستأنسوا عليه بالحديث الذي رواه أبو داود رحمه الله: حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن المبارك عن محمد بن عجلان عن القعقاع بن حكيم، عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «إنما أنا لكم بمنزلة الوالد أعلمكم، فإذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها، ولا يستطب بيمينه» . وكان يأمر بثلاثة أحجار وينهى عن الروث والرمة. وأخرجه النسائي وابن ماجه من حديث ابن عجلان، والوجه الثاني أنه لا يقال ذلك، واحتجوا بقوله تعالى: ما كان محمد أبا أحد من رجالكم.
(ج:۶،ص:۳۴۱،ط:دارالکتب العلمیۃ)

وفی تفسیر القرطبی:

قال قوم: لا يجوز أن يسمى النبي صلى الله عليه وسلم أبا لقوله تعالى:" ما كان محمد أبا أحد من رجالكم" [الأحزاب: 40]. ولكن يقال: مثل الأب للمؤمنين، كما قال: (إنما أنا لكم بمنزلة الوالد أعلمكم ... ) الحديث. خرجه أبو داود. والصحيح أنه يجوز أن يقال: إنه أب للمؤمنين، أي في الحرمة، وقوله تعالى:" ما كان محمد أبا أحد من رجالكم" [الأحزاب: 40] أي في النسب. وسيأتي. وقرأ ابن عباس:" من أنفسهم وهو أب لهم وأزواجه". وسمع عمر هذه القراءة فأنكرها وقال: حكمها يا غلام؟ فقال: إنها في مصحف أبي، فذهب إليه فسأله فقال له أبي: إنه كان يلهيني القرآن ويلهيك الصفق بالأسواق؟ وأغلظ لعمر.
(ج:۱۴،ص:۱۲۵،ط: دار الكتب المصرية)

وفی منھاج السنۃ لابن التیمیۃ:
فإن نساءه إنما كن أمهات المؤمنين تبعا له، فلولا أنه كالأب لم يكن نساؤه كالأمهات.
(ج:۵،ص:۲۳۸،ط: جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية)

وفی تيسير الكريم الرحمن لعبد الرحمن السعدي:

وهو صلى الله عليه وسلم، أب للمؤمنين، كما في قراءة بعض الصحابة، يربيهم كما يربي الوالد أولاده.
فترتب على هذه الأبوة، أن كان نساؤه أمهاتهم، أي: في الحرمة والاحترام، والإكرام، لا في الخلوة والمحرمية
(ص:۶۵۹،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

وفی دفع إيهام الاضطراب عن آيات الكتاب لمحمد الأمين الشنقيطي :

قوله تعالى: وأزواجه أمهاتهم.
هذه الآية الكريمة تدل بدلالة الالتزام على أنه صلى الله عليه وسلم أب لهم، لأن أمومة أزواجه لهم تستلزم أبوته صلى الله عليه وسلم لهم.
وهذا المدلول عليه بدلالة الالتزام مصرح به في قراءة أبي بن كعب رضي الله عنه لأنه يقرؤها: «وأزواجه أمهاتهم وهو أب لهم» . وهذه القراءة مروية أيضا عن ابن عباس.
وقد جاءت آية أخرى تصرح بخلاف هذا المدلول عليه بدلالة الالتزام والقراءة الشاذة، وهي قوله تعالى: ما كان محمد أبا أحد من رجالكم الآية [33 \ 40] .
والجواب ظاهر، وهو أن الأبوة المثبتة دينية والأبوة المنفية طينية
(ص:۱۸۶،ط: مكتبة ابن تيمية)

کذا فی معارف القرآن لمفتی شفیع العثمانی:
(ج:۷،ص:۸۶،ط:مکتبۃ معارف القرآن )

کذا فی معارف القرآن للشیخ ادریس الکاندھلوی:
(ج:۶،ص:۲۲۶،ط:مکتبۃ المعارف)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 215

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com