عنوان: درمیان سال میں آنے والی رقم پر زکوٰۃ(107430-No)

سوال: مفتی صاحب! میرے پاس پچھلے ایک سال سے ایک لاکھ روپے ہیں، اور چار مہینے سے پچاس ہزار روپے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ زکوۃ ایک لاکھ کی دینی ہوگی یا ڈیڑھ لاکھ کی دینی ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ ایک مرتبہ نصاب زکوٰۃ کا مالک بن جانے کے بعد مال کے ہر ہر حصے پر علیحدہ علیحدہ مکمل سال گزرنا ضروری نہیں ہے، لہذا آپ کے پاس سال پورا ہونے کی تاریخ پر جس قدر قابل زکوٰۃ اثاثے موجود ہونگے، ان سب پر زکوٰۃ لازم ہوگی، اگرچہ وہ اثاثے ایک دن پہلے ہی آپ کی ملکیت میں آئے ہوں، پس صورت مسئولہ میں آپ پر پورے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الھدایہ:

ومن کان لہ نصاب، فاستفاد في أثناء الحول من جنسہ ضمہ إلیہ وزکاہ بہ۔

(ہدایۃ 193/1)

کذا فی الھندیۃ:

(منھا حولان الحول علیٰ المال)… ومن کان لہ نصاب ما استفاد فی اثناء الحول مالا من جنسہ ضمہ زکوٰۃ سواء کان لمیراث اوھبۃ او غیر ذالک۔

(ج:1 ص:175)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 132
darmiyan saal mai aanay wali raqam par zakat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.