عنوان: کمی بیشی کے ساتھ پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹ لینا کیسا ہے؟(107639-No)

سوال: مفتی صاحب ! عید کے موقع پر لوگ پرانے نوٹ دے کر نئے نوٹوں کی گڈی لیتے ہیں اور نئے نوٹ دینے والا مثلا 1000 روپے کی گڈی پر کچھ اضافی رقم 200 یا 300 روپے لیتا ہے، مجھے یہ بتادیں کہ یہ اضافی رقم لینا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ جب نوٹوں کا تبادلہ کرنا ہو اور ایک ہی ملک کی کرنسی ہو، تو اس میں برابری ضروری ہے، جبکہ کمی یا زیادتی سود میں شمار ہوگی، چاہے نوٹ نئے ہوں یا پرانے ہوں، لہذا 1000 روپے کے نوٹوں کی گڈی پر 200 یا 300 روپے اضافی رقم لینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کما قال اللہ تعالیٰ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔

(سورۃ البقرة، الایة: ،279,278)

وفی الصحیح لمسلم:

عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ، وقال: ہم سواء.

(ج: 2، ص: 227)

وفی الھدایۃ:

الصرف هو البيع إذا كان كل واحد من عوضيه من جنس الأثمان۔۔۔قال: "فإن باع فضة بفضة أو ذهبا بذهب لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة" لقوله عليه الصلاة والسلام: "الذهب بالذهب مثلا بمثل وزنا بوزن يدا بيد والفضل ربا" الحديث. وقال عليه الصلاة والسلام: "جيدها ورديئها سواء" وقد ذكرناه في البيوع.

(ج: 3، ص: 81، ط: دار احیاء التراث العربی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 385
kami beshi kay sath puranay note day kar naye noot lena kaisa hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.