عنوان: بیٹی کے جہیز کی غرض سے جمع شدہ سونے پر زکوۃ کا حکم(107666-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرے پاس ہار اور انگوٹھی کی صورت میں سونا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ جو سونا استعمال میں ہے اور جو سونا بیٹی کے جہیز کے لئے رکھا ہے، ان میں سے کس سونے کی زکوۃ ادا کرنی ہے؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر آپ کے پاس موجود سونا نصاب تک پہنچ جائے، تو سال پورا ہونے پر زکوۃ ادا کرنا لازم ہے۔

والدین اگر اولاد کی شادی کی غرض سے سونا جمع کریں، تو اس میں زکوۃ واجب ہوگی، البتہ اگر والدین اولاد کو اس مال کا مالک بنادیں، پھر خود اس میں مالکانہ تصرف نہ کریں، تو والدین پر اس مال کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

اس صورت میں اگر اولاد نابالغ ہوں، تو ان پر بھی مذکورہ سونے کی زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

ہاں! اگر وہ بالغ ہوں اور ان کی ملکیت میں جو مال ہے، وہ نصاب کو پہنچ جائے، یعنی اگر ان کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو، یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو، تو ان پر سال پورا ہونے پر ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا لازم ہے، ورنہ نہیں۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی الدر المختار :

(ﻭﺷﺮﻃﻪ) ﺃﻱ ﺷﺮﻁ اﻓﺘﺮاﺽ ﺃﺩاﺋﻬﺎ (ﺣﻮﻻﻥ اﻟﺤﻮﻝ) ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﻣﻠﻜﻪ (ﻭﺛﻤﻨﻴﺔ اﻟﻤﺎﻝ ﻛﺎﻟﺪﺭاﻫﻢ ﻭاﻟﺪﻧﺎﻧﻴﺮ) ﻟﺘﻌﻴﻨﻬﻤﺎ ﻟﻠﺘﺠﺎﺭﺓ ﺑﺄﺻﻞ اﻟﺨﻠﻘﺔ ﻓﺘﻠﺰﻡ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻛﻴﻔﻤﺎ ﺃﻣﺴﻜﻬﻤﺎ ﻭﻟﻮ ﻟﻠﻨﻔﻘﺔ۔

( ج :2، ص : 267، ط : دارالفکر)

کذا فیھا ایضاً :

ﻭﺷﺮﻁ اﻓﺘﺮاﺿﻬﺎ ﻋﻘﻞ ﻭﺑﻠﻮﻍ۔

(ﻗﻮﻟﻪ : ﻋﻘﻞ ﻭﺑﻠﻮﻍ) : ﻓﻼ ﺗﺠﺐ ﻋﻠﻰ ﻣﺠﻨﻮﻥ ﻭﺻﺒﻲ ﻷﻧﻬﺎ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﻣﺤﻀﺔ ﻭﻟﻴﺴﺎ ﻣﺨﺎﻃﺒﻴﻦ ﺑﻬﺎ۔

(ج : 2،ص :258، ط : دارالفکر)

کذا فی شرح المجلۃ :

والتبرع لا یتم إلا بالقبض، فإذا وہب أحد لآخر شیئا لا تتم ھبۃ إلا بقبضہ۔

(شرح المجلۃ رستم باز، إتحاد ، ج :1، ص : 42، رقم المادۃ: ۵۷)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 430
beti kay jahez ki gharz say jama shuda sonay par zakat dene ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.