عنوان: رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قرآن کریم کا سایہ کرنے کا حکم(107681-No)

سوال: ہمارے گاؤں میں رواج ہے کہ شادی کے موقع پر رخصتی کے وقت دلہن کے سر قرآن کا سایہ کیا جاتا ہے، کیا شریعت میں اس کی کوئی اصل ہے؟

جواب: رخصتی کے وقت دلہا یا دلہن کےسر پر قرآن کریم کا سایہ کرنے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے، قرآن اور حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللّٰہ، کسی سے بھی یہ عمل ثابت نہیں ہے، نیز اس میں قرآن کریم کی بے ادبی کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے اس رسم سے اجتناب کرنا چاہیے اور حقیقی معنوں میں ہمیں اپنی زندگی قرآن کریم کے سایہ (قرانی تعلیمات پر عمل کر کے) گزارنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی الصحیح لمسلم ص:۸۶۷

عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَیْنَاہُ، وَعَلاَ صَوْتُہٗ، وَاشْتَدَّ غَضَبُہٗ، کَأَنَّہٗ مُنْذِرُ جَیْشٍ۔ثُمَّ یَقُوْلُ:صَبَّحَتکُمْ أَوْمَسَّتکُمُ السَّاعَۃُ، ثُمَّ یَقُوْلُ: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ"، یُفَرِّقُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، ثُمَّ یَقُوْلُ: "خَیْرُ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّالْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 363
rukhsati kay waqt dulhan kay sar par quran kareem ka saya karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.