عنوان: کیا ناف میں غسل کے دوران پانی پہنچانے کے لئے انگلی ڈالنا ضروری ہے؟(107782-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا غسل کرتے وقت ناف میں انگلی ڈالنا، تاکہ پانی ناف تک پہنچ جائے، ضروری ہے؟

جواب: غسل کے فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ پورے بدن پر اس طرح پانی بہایا جائے کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے، البتہ غسل کے دوران ناف میں پانی پہنچانے کے لئے انگلی ڈالنا فرض نہیں ہے، بلکہ یہ ناف میں پانی پہنچانے کا ایک مناسب طریقہ ہے، لہذا اگر کوئی شخص ناف میں انگلی نہ ڈالے اور پورے بدن پر اس طرح پانی بہائے کہ پورے بدن میں بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے اور ناف میں بھی پانی پہنچ جائے، تب بھی اس کا غسل ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

(ویجب) أی یفرض (غسل) کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ کاذن (وسرۃ وشارب وحاجب) واثناء (لحیۃ)۔

(ج: 1، ص: 152، ط: دار الفکر)

وفی الھندیۃ:

ویجب ایصال الماء الی داخل السرۃ وینبغی أن یدخل اصبعہ فیھا للمبالغۃ۔

(ج: 1، ص: 14، ط: دار الفکر)

وفی التاتارخانیۃ:

ویجب ایصال الماء الی داخل السرۃ وینبغی ان یدخل اصبعہ فیھا للمبالغۃ وفی الخانیہ وان علم انہ یصل الماء الیہ من غیر إدخال الاصبع أجزاہ۔

(ج: 1، ص: 150)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 35

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com