عنوان: گھر، قبیلے کی مسجد، جامع مسجد، مسجد اقصیٰ، مسجد نبوی علی صاحبہ الصلاۃ والسلام اور مسجد الحرام میں نماز ادا کرنے کے ثواب سے متعلق حدیث کی تحقیق(107814-No)

سوال: مفتی صاحب! اس حدیث کی تصدیق فرمادیں: فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جو اپنے گھر میں نماز پڑھے اسے ایک نماز کا اور جو اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھے اسے پچیس نمازوں کا اور جو جامع مسجد میں نماز پڑھے اسے پانچ سو نمازوں کا اور جو جامع مسجد اقصی اور میری مسجد (مسجد نبوی) میں نماز پڑھے اسے پچاس ہزار کا اور جو مسجد الحرام میں نماز پڑھے اسے ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے (سنن ابن ماجه، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها حدیث#1413)

جواب: سوال میں مذکور حدیث سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے، ذیل میں اس حدیث کو سند، متن اور ترجمہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

١٤١٣- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الخَطَّابِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ أَبُو عَبْدِ اللهِ الأَلْهَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ القَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، وَصَلَاتُهُ فِي المَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي المَسْجِدِ الأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي المَسْجِدِ الحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ».

(سنن ابن ماجه: ٢/ ٥٢٧ (١٤١٣)، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها/ باب ما جاء في الصلاة في المسجد الجامع)

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی کو اپنے گھر میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک نماز کے برابر ملتا ہے اور اس کا اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب پچیس نمازوں کے برابر ملتا ہے اور جس مسجد میں جمعہ ادا کیا جاتا ہے، وہاں نماز پڑھنے کا ثواب پانچ سو نمازوں کے برابر ملتا ہے اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے اور میری مسجد (مسجد نبوی علی صاحبہ الصلاۃ والسلام) میں نماز پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے اور اس کا مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نمازوں ثواب کے برابر ملتا ہے۔

حدیث کی اسنادی حیثیت:

علامہ بوصیری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے "مصباح الزجاجۃ" میں اور علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے "العلل المتناھیۃ" میں اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اور علامہ منذری رحمہ اللّٰہ نے "الترغیب والترہیب" میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے: اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے ابو الخطاب الدمشقی کے، ان کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے، صحاح ستہ کے مصنفین میں سے صرف امام ابن ماجہ نے ہی ان سے روایت نقل کی ہے۔ واللہ اعلم۔

نوٹ:

مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور دیگر مساجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت سے متعلق روایات مختلف ہیں، ان مختلف فضیلت والی روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جمہور علماء امت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مسجد نبوی کی نماز دیگر تمام مساجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، البتہ مسجد حرام کی نماز، مسجد نبوی کی نماز سے افضل ہے۔

اگرچہ سنن ابن ماجہ کی مذکورہ بالا روایت میں مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کی نماز کی فضیلت (یعنی پچاس ہزار نمازوں کے برابر ثواب) یکساں بیان کی گئی ہے، لیکن سند کے اعتبار سے وہی روایات راجح ہیں، جن میں مسجد نبوی کی نماز کی فضیلت علی الاطلاق تمام مساجد (ان میں مسجد اقصیٰ بھی شامل ہے) سے افضل ہے۔

(مأخذہ باختصار: الدر المنضود علی سنن أبی داؤد: ٣/ ٣١٩-٣٢٠، ط: مدنی کتب خانہ کراچی)

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکم الحدیث:

قال البوصيري في «المصباح» ٢/ ١٥: هذا إسناد ضعيف، أبو الخطاب الدمشقي لا نعرف حاله، ورزيق أبو عبد الله الألهاني فيه مقال، حكي عن أبي زرعة أنه قال: لا بأس به، وذكره ابن حبان في «الثقات» وفي «الضعفاء»، وقال ينفرد بالأشياء التي لا تشبه حديث الثقات، لا يجوز الاحتجاج به إلا عند الوفاق انتهى. وأورده ابن الجوزي في «العلل المتناهية» بسند ابن ماجه، وضعفه برزيق.
وذكره المنذري في «الترغيب والترهيب» ٢/ ١٤٠ وقال: رواه ابن ماجه ورواته ثقات، إلا أن أبا الخطاب الدمشقي لا تحضرني الآن ترجمته، ولم يخرج له من أصحاب الكتب الستة أحد إلا ابن ماجه، والله أعلم.

تخریج الحدیث:

حديث أنس بن مالك رضی الله عنه في المصادر الأخری:
١- رواه الطبراني في المعجم الأوسط: ٧/ ١١٢ (٧٠٠٨)، وقال: لايروى هذا الحديث عن أنس إلا بهذا الإسناد، تفرد به هشام بن عمار.

٢- ورواه أبو بكر الواسطي في فضائل بيت المقدس: ص١٥٣ (١١)، وفيه: «وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ القَبَائِلِ بِسِتٍّ وَعِشْرين".

٣- ورواه الخطيب في تلخيص المتشابه: ١/ ٤٨٨ ترجمة رزيق بن عبد الله، ولفظه: «الصَّلَاةُ فِي المَسْجِدِ الحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَالصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ، وَالصَّلَاةُ فِي المَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ الجُمُعَةُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ، وَالصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِ القَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ».
٤- ورواه ابن عساكر في تاريخ دمشق: ١٥/ ١٥٩ ترجمة حماد أبي الخطاب، كلفظ أبي بكر الواسطي.
شاهده من حديث مقاتل بن سليمان رحمه الله
١- رواه ابن المرجى في فضائل بيت المقدس: ص٣٥٢ باب جامع للفضائل من كل فن، من طريق عبد الله بن ثابت بن يعقوب القاضي العبقسي، قال: ثنا أبي، عن الهذيل، عن مقاتل بن سليمان بلغني أن رسول الله ﷺ قال: «صَلَاةٌ فِي مَكَّةَ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ، وَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ المَقْدِسِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ».

ويؤيد هذا المعنى حديث البخاري في صحيحه: ١/ ١٠٣ (٤٧٧) عن أبي هريرة مرفوعًا: «صَلَاةُ الجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ خمسة وعشرين درجة.....الحديث.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 517
ghar, qabeelay ki masjid, jama masjid, masjid aqsa, masjid e nabvi , ala saahibi alsalatu wassalam or masjid al haram mai namaz ada karne kay sawab say mutalliq hadees ki tehqeeq

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.