سوال:
میں نے بعض مساجد میں دیکھا ہے کہ امام کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا امام بنا دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا امامت میں وراثت جاری ہوتی ہے؟
جواب: اسلام میں امامت کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس میں وراثت جاری ہوتی ہو، لہذا مسجد کا امام وہی شخص ہوگا، جسے مسجد کا بانی، مسجد کی کمیٹی یا محلہ والے امام منتخب کریں، بشرطیکہ اس میں امامت کی صلاحیت اور شرائط موجود ہوں، اب چاہے وہ شخص جسے امام منتخب کیا جارہا ہو، وہ سابقہ امام کا بیٹا ہو یا کوئی دوسرا شخص ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (400/1، ط: دار الفکر)
ولایۃ الاذان والاقامۃ لبانی المسجد مطلقا وکذا الامامۃ لوعدلاً
(قولہ مطلقا) ای عدلا أو لا وفی الأشباہ: ولد البانی وعشیرتہ اولیٰ من غیرھم اھ
الفتاوی الھندیۃ: (83/1، ط: دار الفکر)
الاولی بالامامۃ أعلمھم بأحکام الصلاۃ ھکذا فی المضمرات وھو الظاھر ھکذا فی البحر الرائق ھذا اذا علم من القراء ۃ قدر ما تقوم بہ سنۃ القراء ۃ ھکذا فی التبیین ولم یطعن فی دینہ کذا فی الکفایۃ وھکذا فی النھایۃ ویجتنب الفواحش الظاھرۃ وان کان غیرہ اورع منہ کذا فی المحیط وھکذا فی الزاھدی وان کان متبحرا فی علم الصلاۃ لکن لم یکن لہ حظ فی غیرہ من العلوم فھو أولیٰ کذا فی الخلاصۃ فان تساووا فاقرء ھم أی اعلمھم بعلم القراءۃ۔۔۔الخ
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی