عنوان: تنہائی میں گستاخی رسول کرنے والے کی توبہ کا شرعی حکم(107919-No)

سوال: السلام علیکم، میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان نبی کی توہین یا نبی کی شان میں تنہائی میں بد ترین گستاخی کرے، اور ایسا کرنے کے بعد اپنی حرکتوں پر شرمندہ ہو، نادم ہو اور سچے دل سے توبہ کرے، کیا اللہ تعالٰی اس کی توبہ کو قبول کرے گا؟ دوسرا سوال: کیا اس شخص کو اپنا جرم کسی قاضی یا کسی عالم کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرنا چاہئے یا کسی کو بولے بغیر اس جرم سے توبہ کرنی چاہئے؟ انڈیا میں چونکہ اسلامی قوانین نافذ نہیں، اس معاملے میں کیا کرنا چاہئے؟

جواب: صورت مسئولہ میں چونکہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، لہذا اس فعل سے یہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کا نکاح بھی فسخ ہوگیا ہے۔

لہذا ایسا شخص سب سے پہلے اپنے ایمان کی تجدید کرے، یعنی نئے سرے سے کلمہ شہادت پڑھ کر ایمان لائے، اور اگر شادی شدہ ہے تو اپنی بیوی سے شرعی طریقہ پر نئے مہر کے ساتھ گواہوں (دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرے۔

تاہم گستاخی چونکہ تنہائی میں کی ہے، عام لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہے، لہذا توبہ اور تجدید ایمان کے لیے کسی عالم یا قاضی کو بتانا ضروری نہیں ہے، البتہ اپنے اس عمل پر خوب توبہ واستغفار کرے اور تنہائی میں ندامت کے ساتھ خوب گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ اس گناہ سے بچنے کا پکا عزم بھی کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الدر المختار مع رد المحتار:

ولفظ النتف من سب الرسول - صلى الله عليه وسلم - فإنه مرتد وحكمه حكم المرتد ويفعل به ما يفعل بالمرتد انتهى۔۔۔۔فبعد أخذه لا تقبل توبته اتفاقا فيقتل، وقبله اختلف في قبول توبته، فعند أبي حنيفة تقبل فلا يقتل

(ج: 4، ص: 234، ط: دار الفکر)

کذا فی الفتاوی الھندیۃ :

سئل عمن ينسب إلى الأنبياء الفواحش كعزمهم على الزنا ونحوه الذي يقوله الحشوية في يوسف - عليه السلام - قال: يكفر؛ لأنه شتم لهم واستخفاف بهم قال أبو ذر من قال: إن كل معصية كفر، وقال: مع ذلك أن الأنبياء - عليهم السلام - عصوا فكافر؛ لأنه شاتم، ولو قال: لم يعصوا حال النبوة ولا قبلها كفر؛ لأنه رد المنصوص.

(ج: 2، ص: 263، ط: دار الفکر)

کذا فی ردالمختار :

وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل و النکاح۔۔۔الخ

(ج: 4، ص: 246، ط: دار الفکر)

کذا فی فتاوی دارالعلوم دیوبند: کفر وارتداد کا حکم، ج : 18، ص : 261، ط: مکتبۃ العلم

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 126

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com