عنوان: قربانی کرنے والے کا جسم کے بال اور ناخن نہ کاٹنے سے متعلق حدیث کی تحقیق(107984-No)

سوال: مفتی صاحب ! رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ حدیث درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ (جانور ذبح کرنے تک) نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث:5234، باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ)

جواب: جی ہاں! سوال میں مذکور حدیث "صحیح" ہے، حدیث کی مشہور کتاب "صحیح مسلم" میں مذکور ہے، ذیل میں اس حدیث کو سند، متن اور ترجمہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:

٤١- وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ. حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَبُو غَسَّانَ. حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ".

(صحيح مسلم: ٣/ ١٥٦٥، رقم الحدیث:٤١، كتاب الأضاحي/ باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة...الخ)

ترجمہ:

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔

نوٹ:
اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن، سر، بغل اور زیر ناف بال نہ کاٹے۔

واضح رہے کہ یہ (عمل) مستحب ہے، واجب نہیں۔ "مستحب" کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کام کر لیا جائے تو ثواب ہے اور نہ کیا جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے، لہذا اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو ملامت اور طعن و تشنیع نہیں کرنی چاہیے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وفی ردالمحتار:

"ﻭﻣﻤﺎ ﻭﺭﺩ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - «ﺇﺫا ﺩﺧﻞ اﻟﻌﺸﺮ ﻭﺃﺭاﺩ ﺑﻌﻀﻜﻢ ﺃﻥ ﻳﻀﺤﻲ ﻓﻼ ﻳﺄﺧﺬﻥ ﺷﻌﺮا ﻭﻻ ﻳﻘﻠﻤﻦ ﻇﻔﺮا» ﻓﻬﺬا ﻣﺤﻤﻮﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺪﺏ ﺩﻭﻥ اﻟﻮﺟﻮﺏ ﺑﺎﻹﺟﻤﺎﻉ".

(الشامية: ج:2، ص:181،ط:دار الفكر بيروت )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 201
qurbani karne walay ka jism kay baal or naakhun na kaatnay say mutalliq hadees ki tehqeeq

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.