عنوان: صاحبِ نصاب عورت نے نقد رقم پاس نہ ہونے کی وجہ سے قربانی نہ کی، اور بعد میں زیور خرچ ہوگیا، تو کیا حکم ہے؟(107999-No)

سوال: مفتی صاحب! ایک خاتون کسی وقت میں زیور کی وجہ سے صاحب نصاب تھیں، قربانی کیلیے الگ سے رقم میسر نہ ہونے کی وجہ سے نہ کرسکیں، پھر زیور بھی خرچ ہوگیا، اب وہ صاحب نصاب تو نہیں ہیں، مگر قربانی کروانا بہت مشکل نہیں ہے، کیا وہ فوت شدہ قربانی کی جگہ قربانی کریں یا تلافی کی اور کوئی صورت ہے؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ عورت زیور کی وجہ سے صاحبِ نصاب تھی، لہذا اس پر قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا واجب تھی، لیکن چونکہ اس نے نقد رقم پاس نہ ہونے کی وجہ سے قربانی نہیں کی اور قربانی کے دن گزر گئے، تو اب اس پر قضاء کے طور پر ایک بکرا یا بکری یا اس کی قیمت یا قربانی کے ایک حصہ کے برابر رقم فقراء ومساکین پر صدقہ کرنا ضروری ہے، اگرچہ اس کا زیور بعد میں خرچ ہوگیا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الھندیۃ:

وإن كان من لم يضح غنيا ولم يوجب على نفسه شاة بعينها تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتري، كذا في العتابية.

(ج:5،ص:296،ط:دار الفکر)

کذا فی کفایت المفتی:

(ج:12،ص:123،ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 99

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com