عنوان: اہل بیت، آل رسول اور بنو ہاشم کا مصداق اور ان کو زکوۃ دینے کا حکم (108120-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! آل رسول، اہل بیت اور ہاشمی خاندان میں کیا فرق ہے؟ کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر صاحبزادیوں کی اولاد بھی آل رسول میں داخل ہیں؟ نیز کیا ان میں سے کسی کو زکوۃ دی جا سکتی ہے؟ جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ اہل بیت سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات (رضی اللّٰہ عنھن)، آپ کی اولاد اور حضرت علی (رضی اللّٰہ عنہ) ہے۔

البتہ آلِ رسول کے مصداق میں متعدد اقوال ہیں، بعض محقیقن کے مطابق اس سے آپ ﷺ کی اولاد مراد ہے، اور اکثر نے آپ کے وہ تمام قرابت دار مراد لیے ہیں، جن کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں ہے، اور بعض کے نزدیک اس سے مجازاً تمام امتِ مسلمہ مراد ہے۔
بہر حال آل رسول کے ان تینوں مصداقوں میں حضرت فاطمہ کے علاوہ دیگر صاحبزادیاں اور ان کی اولاد بھی شامل ہے۔

ہاشم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا تھے، ہاشم کی تمام اولاد "بنو ہاشم" کہلاتی ہے، البتہ زکوۃ کے معاملے میں بنو ہاشم کا مصداق وہی لوگ ہیں، جنہیں سید کہا جاتا ہے۔ آخر میں ان کا نسب ذکر کردیا گیا ہے۔

جہاں تک سید کو زکوۃ دینے کا معاملہ ہے تو اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے :
یہ صدقات (زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ ) لوگوں کے مالوں کا میل کچیل ہیں، ان کے ذریعہ لوگوں کے نفوس اور اموال پاک ہوتے ہیں اور بلاشبہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیےحلال نہیں ہے۔
(صحيح مسلم، ج:2، ص: 754، رقم الحدیث:1072)

لہذا سید کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے، اگر کوئی سید غریب اور محتاج ہے تو صاحبِ حیثیت مال داروں کو چاہیے کہ وہ سادات کی امداد زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ رقم سے کریں، اور ان کو مصیبت اور تکلیف سے نجات دلائیں کہ یہ بڑا اجر وثواب کا کام ہے اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کی دلیل ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس عمل کے ذریعہ آپ ﷺ کی شفاعت کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔

جن لوگوں کا سلسلہِ نسب حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عقیل، حضرت علی یا حضرت حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم تک تحقیقی طور پر پہنچتا ہے اور ان کے نسب نامہ میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، وہ "سید" کہلاتے ہیں، اور زکوۃ کے معاملے میں بنو ہاشم بھی اس کا مصداق ہیں، لہذا بنو ہاشم کو بھی زکوۃ نہیں دی جاسکتی۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صحیح مسلم:(باب ترك استعمال آل النبي على الصدقة،رقم الحدیث:1072،ط:داراحیاءالکتب العلمیۃ)
حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن وهب، أخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل الهاشمي، أن عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، أخبره أن أباه ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، والعباس بن عبد المطلب قالا: لعبد المطلب بن ربيعة، وللفضل بن عباس، ائتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم وساق الحديث بنحو حديث مالك، وقال فيه: فألقى علي رداءه، ثم اضطجع عليه، وقال: أنا أبو حسن القرم، والله، لا أريم مكاني حتى يرجع إليكما ابناكما، بحور ما بعثتما به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال في الحديث: ثم قال لنا «إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لا تحل لمحمد، ولا لآل محمد».

البحرالرائق:(265/2،ط:دارالکتاب الاسلامی)
'' (قوله: وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم ؛ لحديث البخاري: «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة»، ولحديث أبي داود: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة» ''۔

الھندیۃ:(189/1،الباب السابع فی المصارف ط:دارالفکر)
ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي - صلى الله عليه وسلم - كذا في السراج الوهاج.

مقدمۃردالمحتار:(13/1،ط:دارالفکر)
(قوله: وعلى آله) اختلف في المراد بهم في مثل هذا الموضع؛ فالأكثرون أنهم قرابته - صلى الله عليه وسلم - الذين حرمت عليهم الصدقة على الاختلاف فيهم، وقيل جميع أمة الإجابة وإليه مال مالك واختاره الأزهري والنووي في شرح مسلم، وقيل غير ذلك شرح التحرير.
وذكر القهستاني أن الثاني مختار المحققين.

احکام الاحکام شرح عمدۃالاحکام:(309/1،ط:السنۃ المحمدیۃ)
الرَّابِعُ: اخْتَلَفُوا فِي " الْآلِ " فَاخْتَارَ الشَّافِعِيُّ: أَنَّهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ. وَقَالَ غَيْرُهُ: أَهْلُ دِينِهِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} [غافر: 46]

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 155
ehl e bait aal e rasool or bano hashim ka misdaaq or unko ko zakat dene ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.