عنوان: قربانی کے دنوں میں قربانی نہ کرسکے تو کیا حکم ہے؟(108137-No)

سوال: مفتی صاحب ! اگر کسی عورت پر قربانی فرض ہو، اور اس کے شوہر نے کہا ہو کہ میں نے تمہاری طرف سے قربانی میں حصہ لے لیا ہے، لیکن کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ شوہر نے اس کی طرف سے قربانی نہیں کی، معلوم یہ کرنا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟

جواب: صاحب نصاب شخص اگر قربانی کے دنوں میں کسی وجہ سے قربانی نہ کرسکے تو وہ معاف نہیں ہے، بلکہ بعد میں اس قربانی کے بدلے ایک متوسط بکرا یا بکری کی قیمت صدقہ کرنا شرعاً اس پر واجب ہے، اور بعض حضرات کے نزدیک بڑے جانور (گائے، اونٹ) کے ایک حصے کے برابر رقم صدقہ کرنا بھی کافی ہے۔


دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الدرالمختار:(320/6،ط:دارالفکر)
(ولو) (تركت التضحية ومضت أيامها) (تصدق بها حية ناذر)

الشامیۃتحتہ:(320/6،ط:دارالفکر)
قولہ:(ولو ترکت التضحیۃ الخ) شروع في بیان قضاء الأضحیۃ إذا فاتت عن وقتہا فإنہا مضمونۃ بالقضاء في الجملۃ کما في البدائع ۔۔۔۔۔۔۔ قولہ : (تصدق بہا حیۃ) لوقوع الیأس عن التقرب بالإراقۃ ، وإن تصدق بقیمتہا أجزأہ أیضًا ؛ لأن الواجب ہنا التصدق بعینہا ، وہذا مثلہ فیما ہو المقصود ۔ اھ ۔ ذخیرۃ".

الفتاوی الہندیۃ:(296،294/5،ط:دارالفکر)

المبسوط للسرخسي:(12/18،باب الأضحیۃ،ط:دارالکتب العلمیۃ)
"وأما بعد مضي أیام النحر فقد سقط معنی التقرب بإراقۃ الدم ، لأنہا لا تکون قربۃ إلا في مکان مخصوص وہو الحرم ، وفي زمان مخصوص وہو أیام النحر ۔ ولکن یلزمہ التصدق بقیمۃ الأضحیۃ إذا کان ممن تجب علیہ الأضحیۃ ، لأن تقربہ في أیام النحر کان باعتبار المالیۃ فیبقی بعد مضیہا والتقرب بالمال في غیر أیام النحر یکون بالتصدق ، ولأنہ کان یتقرب بسببین : إراقۃ الدم والتصدق باللحم ، وقد عجز عن أحدہما ، وہو قادر علی الآخر فیأتي بما یقدر علیہ".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 175
qurbani kay dino mai qurbani na kar sakay to kia hukum hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.