عنوان: ناپاک قالین کو پاک کرنے کا طریقہ اور ناپاک قالین پر پاک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنے کا حکم(108145-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کچھ گھروں میں مکمل قالین ہوتے ہیں، جن پہ چھوٹے بچے اکثر پیشاپ کرتے ہیں، جو کہ بغیر دھوئے خشک ہو جاتا ہے، ایسی صورت میں پتا نہیں چلتا کہ کون سی جگہ ناپاک ہے؟ ایسی صورت میں اگر اس جگہ نماز پڑھ لی گئی تو نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب: بہتر یہ ہے کہ اس قالین کو پاک کر کے اس پر نماز ادا کی جائے اور ایسا قالین جس کو نچوڑنا مشکل ہو، تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے تین مرتبہ دھویا جائے اور ہر مرتبہ دھو کر اتنی دیر تک چھوڑ دیا جائے کہ اس میں سے پانی کے قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں، اس طرح کرنے سے وہ قالین پاک ہو جائے گا۔
لیکن اگر وہ قالین پاک نہ کیا ہو، تو اس پر اتنا موٹا کپڑا بچھایا جائے کہ جس سے اس قالین میں جذب ناپاکی کی بو محسوس نہ ہو، تو ایسے کپڑے پر نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیۃ:(42/1،الباب السابع فی النجاسۃ،ط:دارالفکر)
"وما لا ینعصر یطہر بالغسل ثلاث مرات، والتجفیف في کل مرۃ؛ لأن للتجفیف أثرا في استخراج النجاسۃ، وحد التجفیف أن یخلیہ حتی ینقطع التقاطر، ولا یشترط فیہ الیبس".

الدرالمختارمع ردالمحتار:(626/1،ط:دارالفکر)
"وکذا الثوب إذا فرش علی النجاسۃ الیابسۃ، فإن کان رقیقا یشف ماتحتہ، أو توجد منہ رائحۃ النجاسۃ علی تقدیر أن لہا رائحۃ لاتجوز الصلوۃ علیہ، وإن کان غلیظا بحیث لا یکون کذلک جازت".

حاشيةالطحطاوي على مراقي الفلاح:(208/1،ط:دارالکتب العلمیۃ)
"قوله ( فلو بسط شيئا رقيقا يصلح ساترا الخ ) أي ولم تشم منه رائحة النجاسة قال البرهان الحلبي وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة إن كان رقيقا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير ان لها رائحة لا تجوز الصلاة عليه و ان كان غليظا بحيث لا يكون كذلك جازت".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 451
napak qaleen ko pak karne ka tariqa or na pak qaleen par pak kapra icha kar namaz parhne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.