عنوان: شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کے گھر والوں کو رقم، جوڑے وغیرہ دینے کی رسم کا حکم(108155-No)

سوال: السلام علیکم، شادی میں یہ رسم عمومی طور پر دیکھی گئی ہے کہ لڑکی والے لڑکے کی بہن، بہنوئی، والد، والدہ، بھائی، بھائیوں کی اہلیہ اور کچھ رشتہِ داروں کو کیش کا لفافہ، کپڑے کی جوڑی اور یہاں تک کہ کوئی سونے کی چیز بھی دی جاتی ہے۔ کیا یہ عمل جو کہ رسمی ہے، یہ شریعت کی رو سے جائز مانا جائے گا؟ جواب دے کر رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ بابرکت نکاح وہی ہے، جو سادگی اور آسانی کے ساتھ کیا جائے، بے جا تکلفات اور فضول رسومات نکاح کو مشکل بنادیتی ہیں، اور اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے، لہذا سادگی کے ساتھ نکاح کرنا چاہیے۔

اگر لڑکی والے ضروری سمجھے بغیر محض خوش دلی سے استطاعت کے بقدر ہدیہ کے طور پر لڑکے کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو کچھ تحائف دے دیں، تو اس کی گنجائش ہے۔

البتہ اگر لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو رقم اور جوڑے وغیرہ دینے کو لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہو، اور رضامندی کے بغیر ان سے تحائف لیے جاتے ہوں اور تحائف نہ دینے پر یا لڑکی والوں کی طرف سے دیے جانے والے تحائف کی قیمت یا تعداد کم ہونے پر طعن و تشنیع کی جاتی ہو اور برا بھلا کہا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں لڑکے والوں کے لیے تحائف لینا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں دوسرے کے مال کو اس کی رضامندی کے بغیر لینا لازم آرہا ہے، جو کہ حدیث کی رو سے حلال نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


السنن الکبری للبیہقی:(160/6،ط:دارالکتب العلمیۃ)
عن عكرمة، عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس في حجة الوداع، فذكر الحديث، وفيه: " لا يحل لامرئ من مال أخيه إلا ما أعطاه من طيب نفس، ولا تظلموا، ولا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض "

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 124
shadi kay moqay par larki walo ki taraf say larkay kay ghar walo ko raqam joray wagaira dene ki rasam ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.