resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: معذوری کی وجہ سے گھر میں جماعت سے نماز ادا کرنا(8165-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! ایک دوست جو پنج وقتہ باجماعت نمازی تھے، ایک حادثے میں ٹانگ ضائع ہو جانے کے سبب اب مسجد جانے سے معذور ہوگئے ہیں۔ کیا وہ گھر میں بیوی اور بیٹی کے ساتھ جماعت کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر آپ کے دوست کے لیے معذوری کی وجہ سے مسجد میں جانا مشکل ہو تو ان کے لیے گھر پر انفرادی طور پر نماز پڑھنے سے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں (بیوی اور بیٹی) کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز ادا کرلیں، لیکن بغیر کسی شرعی عذر کے مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں جماعت سے نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 654، ط: دار إحياء التراث العربي)
عن ابی الاحوص قال: قال عبداللہ لقد رایتنا وما یتخلف عن الصلاة الا منافق قد علم نفاقہ او مریض ان کان المریض لیمشی بین رجلین حتی یاتی الصلاة. وقال: ان رسول اللہ صلی الله عليه وسلم علَّمَنا سنن الھدی وان من سنن الھدی الصلاۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ.

و فیه ایضاً: (رقم الحدیث: 651، ط: دار إحياء التراث العربي)
حدثنا ابوہریرة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال رسول اللہ صلی الله عليه وسلم لقد ہممت أن آمر فتیاني ان یستعدوا لی بحزم من حطب ثم آمر رجلا یصلی بالناس ثم تحرق بیوت علی من فیھا.

رد المحتار: (باب الامامة، 555/1، ط: دار الفکر)
وذکر القدوری أنہ یجمع باھلہ ویصلی لہم یعني وینال ثواب الجماعۃ۔

مجمع الانھر: (107/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
لو صلی في بیتہ بزوجتہ أو ولدہ فقد أتی بفضیلۃ الجماعۃ.

فتح القدیر: (345/1، ط: دار الفکر)
ویکون بدعۃ و مکروھا بلا عذر‘‘

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

maazoori ki waja say ghar mai jamat say namaz ada karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)