سوال:
مفتی صاحب! کیا کسی حدیث میں واضح طور پر دوسری جماعت سے متعلق ممانعت وارد ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔
جواب: واضح رہے کہ ایسی مسجد جس میں امام ،مؤذن مقرر ہوں، اور نمازی معلوم ہوں، اس کے علاوہ نماز کے اوقات بھی متعین ہوں تو ایسی صورت میں مسجد میں ایک مرتبہ اذان اور اقامت کے ساتھ اہل مسجد کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلینے کے بعد دوبارہ نماز کے لئے جماعت کرانا مکروہِ تحریمی ہے۔ نبیﷺ اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں بھی مساجد میں صرف فرض نماز کے لئے ایک ہی مرتبہ جماعت کا معمول تھا۔لہذا شریعت کی منشا کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سے زائد جماعت کرانے کی صورت میں تفریق سے بچا جائے۔
باقی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی چیز کی ممانعت یا اثبات کے لئے صراحت کے ساتھ الفاظ منقول ہونا ضروری نہیں، بلکہ تعاملِ امّت سے بھی احکاماتِ شریعت کو جانا جاسکتا ہے، اور یہ قرآن وسنت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے مترادف ہے۔ سو جماعتِ ثانیہ کی ممانعت صراحتاً تو کسی روایت میں نہیں ملتی ، تاہم نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےتعامل سے اسی بات کا ثبوت ضرور ملتا ہے۔ ذیل میں دونوں تعامل کے حوالہ سے روایت کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
(1)ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ دو فریقوں کے درمیان صلح کے لیے تشریف لے گئے، واپس تشریف لائے تو مسجد نبوی میں جماعت ہوچکی تھی، آپﷺ نے گھر جاکر گھر والوں کو جمع کرکے جماعت سے نماز ادا فرمائی۔
(المجعم الاوسط، 35/5، رقم الحدیث:4601، الناشر: دار الحرمين – القاهرة)
(2)حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے اصحاب جب مسجد میں داخل ہوتے اور نماز ہوچکی ہوتی تو تنہا نماز پڑھتے۔
(المصنف ، لأبي بكر بن أبي شيبة العبسي الكوفي، باب من قال: یصلون فرادی، 19/5، رقم الحدیث:7299، الناشر: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض – السعودية)
ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسجدمیں دوسری جماعت کی اجازت ہوتی تو نبیﷺ اور ان کے اصحاب ضرور اس کا اہتمام کرتے، لہذا وقت مقرّرہ پر جماعت ہوجانے کے بعد مسجد کی حدود میں دوسری جماعت کرانے سے احتراز ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المصنف ، لأبي بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة العبسي الكوفي (ت 235 ه)، (باب من قال: یصلون فرادی، 19/5، رقم الحدیث:7299، المحقق: سعد بن ناصر بن عبد العزيز أبو حبيب الشثري، تقديم: ناصر بن عبد العزيز أبو حبيب الشثري، الناشر: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض – السعودية):
عن الحسن قال: كان أصحاب محمد -صلى الله عليه وسلم- إذا دخلوا المسجد، وقد صلي فيه صلوا فرادى۔
المجعم الاوسط، لأبي القاسم سليمان بن أحمد الطبراني (260 - 360 ه)،) 35/5، رقم الحدیث:4601، المحقق: أبو معاذ طارق بن عوض الله بن محمد - أبو الفضل عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، الناشر: دار الحرمين – القاهرة):
عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- «أقبل من نواحي المدينة يريد الصلاة، فوجد الناس قد صلوا، فمال إلى منزله، فجمع أهله، فصلى بهم»
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، لأبي العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى (ت 1353 ه)، (باب في الجماعة في مسجد، 9/3، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت):
ولقد صنف مولانا الكنكوهي رسالة في مسألة الباب، وأتى فيه بحديث أنه -عليه السلام- دخل المسجد، وقد صلي فيه فذهب إلى بيته وجمع أهله، وصلى بالجماعة۔ ولو كانت الجماعة الثانية جائزة بلا كراهة لما ترك فضل المسجد النبوي۔ أخرجه في معجم الطبراني في "الأوسط" و"الكبير"۔۔۔۔۔ وأما رسالة الشيخ الكنكوهي، فقد صنف بعض علمائنا في الرد عليها رسالة حسنة جيدة۔
وأجاب عن ما استدل به الشيخ الكنكوهي جوابا شافيا۔ ومنها: أن الحديث ليس بنص على أنه -صلى الله عليه وسلم- جمع أهله فصلى بهم في منزله، بل يحتمل أن يكون صلى بهم في المسجد وكان ميله إلى منزله لجمع أهله، لا للصلاة فيه، وحينئذ يكون هذا الحديث دليلا لاستحباب الجماعة في مسجد قد صلي فيه مرة، لا لكراهتها. فما لم يدفع هذا الاحتمال كيف يصح الاستدلال؟۔
ومنها: أنه لو سلم أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلى بأهله في منزله، لا يثبت منه كراهة تكرار الجماعة في المسجد۔ بل غاية ما يثبت منه: أنه لو جاء رجل في مسجد قد صلي فيه، فيجوز له أن لا يصلي فيه بل يخرج منه، فيميل إلى منزله فيصلي بأهله فيه۔ وأما أنه لا يجوز له أن يصلي في ذلك المسجد بالجماعة أو يكره له ذلك، فلا دلالة للحديث عليه ألبتة، كما لا يدل الحديث على كراهة أن يصلي فيه منفردا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی