سوال:
السلام علیکم ،مفتی صاحب! جماعت سے نماز پڑھنے کی صورت میں ظہر کی اور عصر کی نماز میں آواز سے قرات کیوں نہیں کی جاتی ہے؟ کیا پیچھے پڑھنے والے خاموش رہیں یا اپنے طور پر قرات کریں؟
جواب: ظہر و عصر کی باجماعت فرض نماز میں سری (آہستہ) قراءت کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، امداد السائلین (ج:2،ص:148) میں لکھتے ہیں :
’’رسول اللہ ﷺ نے پوری حیاتِ طیبہ میں اسی طرح نماز پڑھی اور پڑھائی ہے، اور اُمت کو حکم دیا ہے کہ جس طرح میں نماز پڑھتا ہوں، تم بھی اسی طرح پڑھو، پس اُمت پر رسول اللہ ﷺ کا فرمان بجالانا لازم ہے، سب سے بڑی عقل ودانش یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی پیروی کی جائے۔‘‘
نیز نماز جہری ہو یا سِرّی، مقتدی کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ امام کے پیچھے خاموش کھڑا رہے، اس لیے کہ امام کی قراءت مقتدی کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے:
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ، فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ»
( سنن ابن ماجه،رقم الحدیث:850)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت اس کی بھی قرأت ہے۔
لہٰذا مقتدی کو چاہیے کہ امام کی قراءت کو دھیان سے سنے، اور اگر امام زور سے نہ پڑھ رہا ہو، جیسے ظہر و عصر کی نماز میں، تو مقتدی زبان ہلائے بغیر دل ہی دل میں سورۂ فاتحہ کا دھیان رکھے، لیکن امام کے پیچھے مقتدی کے لیے زبان سے تلاوت کرنا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 7246، ط: دار الکتب العلمیة)
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا - أَوْ قَدِ اشْتَقْنَا - سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ ، قَالَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، - وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا أَوْ لاَ أَحْفَظُهَا، - وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»
بدائع الصنائع: (160/1، ط: دار الکتب العلمیة)
ومنها): الجهر بالقراءة فيما يجهر، وهو الفجر والمغرب والعشاء في الأوليين، والمخافتة فيما يخافت، وهو الظهر والعصر إذا كان إماماً.والجملة فيه أنه لا يخلو إما أن يكون إماماً أو منفرداً، فإن كان إماماً يجب عليه مراعاة الجهر فيما يجهر، وكذا في كل صلاة من شرطها الجماعة كالجمعة والعيدين والترويحات، ويجب عليه المخافتة فيما يخافت.
الدر المختار: (532/1، ط: دار الفکر)
(ويجهر الإمام) وجوبا.... (في الفجر وأولى العشاءين أداء وقضاء وجمعة وعيدين وتراويح ووتر بعدها) أي في رمضان فقط للتوارث:...(ويسر في غيرها)
فتاویٰ محمودیه: (40,41/7، ط: ادارۃ الفاروق، کراتشی)
کذا فی فتاوٰی بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144001200918
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی