عنوان: دینی، سیاسی اور معاشرتی اجتماعات کی وجہ سے عام راستہ اور گزرگاہ بند کرنے کا شرعی حکم(8218-No)

سوال: السلام علیکم، آج کل جو راستے بند کیے جاتے ہیں، چاہے وہ سیاسی جلسے ہوں، دینی اجتماعات ہوں، مسجد مدرسے حکومت وغیرہ کے حفاظتی مسائل ہوں، کسی شخصیت کا گذر ہو، قربانی کے ایام میں جانور باندھنے کی وجہ سے یا ذبح کی وجہ سے راستہ بند ہو جاتا ہے، بعض چھوٹی مساجد میں جنازہ سڑک پر کرتے ہیں، اس کے بارے میں حکم سے مطلع فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ دینی، سیاسی اور معاشرتی اجتماعات کی وجہ سے عام راستے اور گزرگاہیں بند کرنا، جس سے لوگوں کو گزرنے کا راستہ نہ ملنے کی وجہ سے شدید دقت و مشقت کا سامنا ہو، شرعاً ناجائز اور گناہ کا کام ہے۔
قرآن اور حدیث میں کسی بھی شخص کو اذیت دینے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے عام گزرگاہ پر نماز جنازہ پڑھنے کو بھی مکروہ لکھا ہے، خصوصاً جبکہ اس کا متبادل بھی موجود ہو۔
البتہ اگر کوئی ضروری مباح تقریب ہو، اور تقریب کے لیے عام گزرگاہ کے علاوہ کوئی اور متبادل جگہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں اگر بقدرِ ضرورت عام گزرگاہ کا کچھ حصہ لے لیا جائے اور لوگوں کے گزرنے کے لیے مناسب راستہ چھوڑ دیا جائے، پورا راستہ بند نہ کیا جائے یا پھر متبادل راستہ کا انتظام کیا جائے اور تقریب ختم ہوتے ہی راستہ کھول دیا جائے، تو ان شرائط کی رعایت کے ساتھ راستہ بند کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المؤطا: (باب مایؤمر به من العمل فی السفر، رقم الحدیث: 38، ط: دار احیاء التراث العربی)
مالك عن أبي عبيد مولى سليمان بن عبد الملك ، عن خالد بن معدان؛ يرفعه، قال: «إن الله تبارك وتعالى رفيق يحب الرفق، ويرضى به. ويعين عليه ما لا يعين على العنف. فإذا ركبتم هذه الدواب العجم. فأنزلوها منازلها. فإن كانت الأرض جدبة فانجوا عنها بنقيها.
وعليكم بسير الليل، فإن الأرض تطوى بالليل ما لا تطوى بالنهار.
وإياكم والتعريس على الطريق. فإنها طرق الدواب، ومأوى الحيات».

سنن ابی داؤد: (باب فی الجلوس فی الطرقات، رقم الحدیث: 4815، ط: المکتبة العصریة)
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد، عن زيد يعني ابن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إياكم والجلوس بالطرقات» قالوا: يا رسول الله، ما بد لنا من مجالسنا نتحدث فيها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أبيتم فأعطوا الطريق حقه» قالوا: وما حق الطريق يا رسول الله؟ قال: «غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر».

الهندية: (الباب السابع في جلوس القاضي، 320/3، ط: دار الفکر)
ولا بأس بأن يقعد على الطريق إذا كان لا يضيق بالمارة كذا في التبيين.

و فيها ايضاً: (الباب الخامس في المتفرقات، 406/5، ط: دار الفکر)
ولو بنى رجل في الطريق العام كان لكل واحد أن يخاصمه في ذلك ويهدمه فأما بينه وبين الله تعالى فإن كان هذا الحائط الذي بناه في الفرات يضر بمجرى السفن أو الماء لم يسعه وهو فيه آثم وإن كان لا يضر بأحد فهو في سعة من الانتفاع بمنزلة الطريق العام إذا بنى فيه بناء فإن كان يضر بالمارة فهو آثم في ذلك وإن كان لا يضر بها فهو في سعة من ذلك.

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (فصل السلطان احق بصلاته، 596/1، ط: دار الکتب العلمیة)
تكره صلاة الجنائز في الشارع وأراضي الناس
قوله: "تكره الجنائز الخ" لشغل حق العامة في الأول وحق المالك في الثاني.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 240
deeni siyasi or muashrati ijtimaat ki waja say aam rastay or guzar gaah band karne ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.