عنوان: کیا چھلکے دار کون مہندی ہاتھ وغیرہ پر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور نماز ہو جاتی ہے؟(108235-No)

سوال: السلام علیکم،آپ سے دریافت کرنا تھا کہ کون مہندی لگانا صحیح ہے یا نہیں؟ آج کل سب کہتے ہیں کہ اس کو لگانے کے بعد یہ چھلکے کی طرح اترتی ہے، تو یہ نیل پاش کے حکم میں داخل ہو گئی ہے، اب اس کو لگا کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ کون مہندی لگانے سے اگر پانی جسم تک پہنچ جاتا ہو، تو اس مہندی کے ہاتھ وغیرہ پر لگے رہنے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جاتا ہے، اگرچہ مہندی کا رنگ چھلکے یا جھلی کی صورت میں اترے، اور اگر کون مہندی لگی ہونے کی صورت میں پانی جسم تک نہیں پہنچتا، تو ایسی مہندی لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل نہیں ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الدرالمختار وحاشية ابن عابدين:(154/1،ط:دارالفکر)
''(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى۔
(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن''۔

الفتاوى الهندية:(4/1،ط:دارالفکر)
''في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز، وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز۔
وفي الجامع الصغير: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ؟ قال: كل ذلك سواء، يجزيهم وضوءهم ؛ إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج، والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة۔ وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلاً عن الجامع الأصغر. والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز''.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 189
kia chilkay daar cone mehendi hath p lagay honay ki soorat mai wozu or namaz hojati hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.