عنوان: کمپنی کی طرف سے ملازمین کی مزید تعلیم کیلئے مالی امداد کرنا٬ اسے مختلف کاروبار میں لگانے اور ملازمین کیلئے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا شرعی حکم(108276-No)

سوال: السلام علیکم، میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، کمپنی اپنے ملازمین کو دوران ملازمت مزید تعلیم کے لئے مالی مدد فراہم کرتی ہے، اس کے لئے کمپنی کا اپنے زیر انتظام ایک فنڈ ہے، جس میں کمپنی اپنے منافع میں سے سرمایہ رکھتی ہے اور ساتھ ساتھ فنڈ میں موجود سرمائے کو کمپنی مختلف مروجہ کاروبار، مثلاً: اسٹاک مارکیٹ، فکسڈ ڈیپازٹ، میوچل فنڈز وغیرہ میں انوسٹ کرتی رہتی ہے، تاکہ فنڈ بڑھتا رہے، ملازم اپنی تعلیم کی فیس خود جمع کراتے ہیں اور کامیابی کے بعد کمپنی میں رسید وغیرہ جمع کرانے پر انہیں وہ خرچ کئے ہوئے پیسے واپس مل جاتے ہیں۔ پوچھنا ہے کہ کمپنی کی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا شرعی حکم کیا ہے، جبکہ ہمیں اُس تعلیمی فنڈ کی انویسٹمنٹ کے ذرائع کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں کہ جائز ہوتے ہیں یا ناجائز؟

جواب: مذکورہ صورت میں کمپنی کی طرف سے ملازمین کو مزید تعلیم کے لئے مالی مدد فراہم کرنا، ان کے ساتھ تبرع اور تعاون کی صورت ہے٬ لہذا ملازمین کیلئے کمپنی کے طریقہ کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانا شرعا درست ہے۔

جہاں تک کمپنی کا اس فنڈ سے سرمایہ کاری (Investment) کرنے کا تعلق ہے٬ تو اس کا حکم یہ ہے کمپنی کیلئے کسی ایسے کاروبار میں پیسے لگانا جائز نہیں ہے، جہاں اس کاروبار کے شرعی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہو٬ لہذا کسی جائز کاروبار میں ہی سرمایہ کاری کرنی چاہئیے٬ تاہم اگر کمپنی اپنے طور پر کسی غیر شرعی کاروبار میں سرمایہ کاری کرکے نفع کماتی ہے٬ پھر اس رقم کو اپنے عمومی اکاؤنٹ میں شامل کرکے اس فنڈ سے ملازمین کے ساتھ تعاون کرتی ہے٬ ایسی صورت میں اگر کمپنی کے اکاؤنٹ میں غالب رقم حلال آمدنی کی ہوتی ہے٬ تو ملازمین کیلئے اس رقم کا وصول کرنا اور استعمال کرنا شرعا درست ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المحيط البرهاني:(367/5،ط:دارالکتب العلمیۃ)
"وفي «عيون المسائل» : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه"

الفتاوى الهندية:(342/5،ط:رشیدیۃ)
"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية ولايأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ۔ ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال، بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.