عنوان: اہل شخص کا رشوت دے کر عہدہ حاصل کرنا(108289-No)

سوال: السلام علیکم، اگر کوئی شخص کوالیفیکشن کے اعتبار سے مکمل طور پر کسی عہدے کا اہل ہو، لیکن کوئی شخصی رکاوٹ اس کا کام کرنے کے لیے اس سے رقم کا مطالبہ کرے تو کیا اس اہل شخص کو اس شخصی رکاوٹ کو رقم دے کر اپنا کام کروانا جائز ہے؟

جواب: رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں، البتہ اگر کسی شخص کا کوئی جائز کام تمام جائز ذرائع و تدابير استعمال کرنے کے باوجود بھی بغیر رشوت دیے نہیں ہو رہا ہو، اور وہ شخص اس چیز کے حصول کا اہل اور حقدار بھی ہو، تو اس صورت میں اپنے اوپر سے دفعِ ظلم کے لیے رشوت دے کر کام کروانے کی گنجائش ہے، تاہم رشوت دینے پر اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کرتا رہے، البتہ رشوت لینے والا ہر صورت میں گنہگار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی الشامیۃ:

الرشوۃ علی اربعۃ اقسام۔۔۔۔۔۔الرابع: ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علی نفسہ أو مالہ حلال للدافع حرام علی الآخذ۔

(کتاب القضاء، مطلب: في الکلام علی الرشوۃ والہدیۃ، ج5، ص362، سعید، کراچی )

کذا فی الدر:

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دینہ۔

(ج 6، ص 423، ط، ایچ ایم سعید، کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 104

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com