عنوان: "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں" جملے کی شرعی حیثیت(108307-No)

سوال: مفتی صاحب! اکثر سنا گیا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ہر انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے اللہ تعالی نے اس کی ہر چیز مقررفرمائی ہے، انسان اس کے خلاف ہزارہا کوششیں کرلے، تب بھی کامیاب نہیں ہوسکتا، یہ ہم سب کا بحیثیت مسلمان ایمان اور عقیدہ ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے:
قل لن یصینا الاماکتب اللہ لنا ھو مولٰنا و علی اللہ فلیتوکل المؤمنون۔ (سورۃ التوبۃ: آیت نمبر:۵۱)

ترجمہ: کہہ دو کہ: اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے، ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی، وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:
وما تشآءون الا أن یشاء اللہ۔۔
(سورۃ الدھر:۳۰)

ترجمہ: اور تم چاہو گے نہیں، جب تک اللہ نہ چاہے۔

حدیث شریف میں ہے:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ (حالانکہ آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے۔) نے بیان فرمایا: "تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جنت) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے، تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے، یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جہنم) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے، تو داخل جنت ہو جاتا ہے۔

اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کے ہر فعل کے بارے میں تقدیر میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں کی فلاں سے شادی ہوگی، لیکن ان سب کے باوجود انسان کا تقدیر کا سہارا لے کر بیٹھ جانا، اور اپنے آپ کو مجبور محض خیال کرکے اسباب کو اختیار نہ کرنا، کسی بھی طرح شرعاً پسندیدہ عمل نہیں ہے، اور نہ ہی یہ توکل اور بھروسہ ہے، بلکہ اپنی وسعت اور طاقت کے مطابق اسباب کو اختیار کرنا ہی دراصل توکل ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے دنیا کو دارالاسباب بنایا ہے، جس میں ہر کام کے لیے بندے کو پہلے سبب کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھیں کہ اگر کوئی شخص اولاد حاصل کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے اس کے سبب کو اختیار کرنا ہوگا کہ وہ نکاح کرے، پھر نکاح کے بعد تقدیر خداوندی کے مطابق اس کے مقدر میں اولاد ہے، تواس کی آنکھیں اولاد سے ٹھنڈی ہوں گی، ورنہ دس مرتبہ نکاح کے بعد بھی وہ اولاد سے محروم ہی رہے گا، لیکن اِس کی وجہ سے بندہ صرف تقدیر پر ہی آنکھ بند کر کے بھروسہ کر لے کہ بغیر نکاح کے اولاد حاصل کروں گا، تو یہ اُس کی نادانی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کا فیصلہ بندے کے "کسب" (اسباب اختیار کرنے) کے ساتھ رکھا ہے۔

ایک حدیث شریف سے یہ درس ملتا ہے کہ تم اپنی روزی حاصل کرنے کے لیے کوشش کر لو، پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو کہ روزی دینا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، وہ چاہے گا تو ملے گی، اور وہ جتنی چاہے گا، اسی قدر ملے گی، اب اللہ تعالیٰ نے تو کسی بندے کو اطلاع نہیں دی ہے کہ اس کی قسمت میں روزی ہے یا نہیں، اگر ہے تو کتنی ہے؟ کم ہے یا زیادہ، تو جب بندہ ان امورِ تقدیر سے مکمل نا واقف ہے، تو پھر وہ یہ سمجھ کر مایوس کیسے بیٹھ سکتا ہے کہ جب اس کی قسمت میں روزی ہی نہیں ہے، تو پھر اسے کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یا یہ کہ اس کی قسمت میں جو روزی ہے، وہ اسے مل ہی جائے گی، اس لیے اسے کوشش نہ کرنی چاہیے، یہ خیال غلط ہے، کیونکہ عالم اسباب میں اللہ تعالی کا طریقہ یہی جاری ہے کہ بندہ پہلے اسباب اختیار کرے، پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، جانوروں کو بھی رزق اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ملتا ہے، لیکن تلاش تو انہیں بھی کرنا ہی پڑتا ہے۔

خلاصہ کلام:
یہ کہ بندہ اپنی جانب سے اسباب اختیار کرے، اس کے بعد معاملات کو اللہ تعالی کے سپرد کردے، لہذا اگر اس جملے کہ "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں" کا مطلب یہ ہوگا کہ اسباب کے درجے میں مناسب رشتہ تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہیے، تو یہ مطلب درست نہیں ہے، لیکن اگر اس کا مطلب یہ ہوکہ مناسب کوشش، استخارہ وغیرہ کرنے کے بعد ہوتا وہی ہے، جو اللہ تعالی کا فیصلہ ہے اور تقدیر میں لکھا ہوا ہے، تو یہ بات درست ہے، لہذا عقل اور احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آسمانوں پر جوڑے بننے کے باوجود ہمیں مناسب رشتہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

لما فی الصحیح لمسلم:

حدثني أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن عبد الله بن سرح، حدثنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ الخولاني، عن أبي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " كتب الله مقادير الخلائق قبل أن يخلق السماوات والأرض بخمسين ألف سنة، قال: وعرشه على الماء "

(حدیث نمبر:۲۶۵۲،ج:۴،ص:۲۰۴۴،ط: دار إحياء التراث العربی)

وفی سنن أبی داؤد:

حدَّثنا حفصُ بنُ عمر النَّمَرىُّ، حدَّثنا شعبةُ.وحدَّثنا محمدُ بنُ كثيرِ، أخبرنا سفيانُ -المعنى واحد، والإخبار في حديث سفيان- عن الأعمش، حدَّثنا زيدُ بنُ وهبٍ حدَّثنا عبدُ الله بنُ مسعودٍ قال: حدَّثنا رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- وهو الصادِقُ المصدوقُ: "إنّ خَلقَ أحدِكُمُ يُجمَعُ في بَطنِ أُمِّه أربعين يوماً، ثم يكونُ عَلَقَةَ مِثْلَ ذلك، ثم يكونُ مُضغةَ مِثلَ ذلك، ثمِ يُبعَثُ إليه مَلَكٌ، فيُؤمَرُ باربعِ كلماتٍ: فيكتُبُ رِزقَه وأجَلَه وعَمَله، ثم يكتُبُ: شقي أو سعيدٌ، ثم يَنفُخُ فيه الروحَ، فإن أحدَكُم ليَعمَلُ بعَمَلِ أهلِ الجنةِ حتى ما يكونُ بينَه وبينها إلا ذِراعٌ، أو قِيدُ ذراعٍ، فيَسبِقُ عليه الكتابُ، فيعملُ بعملِ أهلِ النار، فيدخلُها، وإن أحدكم ليَعمَلُ بعملِ أهل النار حتى ما يكونَ بينه وبينها إلا ذراعٌ، أو قِيدُ ذِرَاعٍ، فيسبقُ عليه الكتابُ، فيعملُ بعمَلِ أهلِ الجنة فيدخُلُها"

(حدیث نمبر:۴۷۰۸،ج:۷،ص:۹۳،ط:دار الرسالۃ العالمیۃ)

وفی شعب الإیمان للبیھقی:

اخبرنا أبو طاهر الفقيه، حدثنا علي بن حمشاد، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، فذكره بمثل إسناد العلوي غير أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنكم لو توكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير تغدو خماصا، وتروح بطانا " قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى: " وليس في هذا الحديث دلالة على القعود عن الكسب، بل فيه ما يدل على طلب الرزق؛ لأن الطير إذا غدت فإنما تغدو لطلب الرزق وإنما أراد - والله تعالى أعلم - لو توكلوا على الله تعالى في ذهابهم ومجيئهم وتصرفهم ورأوا أن الخير بيده ومن عنده لم ينصرفوا إلا سالمين غانمين كالطير تغدو خماصا، وتروح بطانا، لكنهم يعتمدون على قوتهم وجلدهم ويغشون ويكذبون، ولا ينصحون وهذا خلاف التوكل "

(حدیث نمبر:۱۱۳۹،ج:۲،ص:۴۰۵،ط: مکتبۃ الرشد)

وفی شرح العقائد:

وللعباد افعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کا نت معصیۃ لا کمازعمت الجبریۃ انہ الفعل للعبد اصلا وان حرکاتہ بمنزلۃ حرکات الجمادات لاقدرۃ علیھا ولا قصد ولا اختیار ھذا باطل۔۔۔و تحقیقہ ان صرف العبد قدرتہ وارادتہ الی الفعل کسب و ایجاد اللہ تعالی الفعل عقیب ذلک خلق۔

(ص:۲۱۹۔۲۱۴،ط: مکتبۃ البشری)

وفی منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر:

(ولا یکون في الدنیا ولا في الآخرۃ شئ ) موجود حادث، في الأحوال جمیعھا(إلا بمشیتہ) مقرونا بإرادتہ، و( علمہ وقضائہ، ) حکمہ وأمرہ ،(وقدرہ ) بتقدیرہ بقدر قدرہ،( وکتبہ ) وکتابتہ(في اللوح المحفوظ) قبل ظھور أمرہ...ومجمل الأمرأن القدر وھو مایقع من العبد المقدر في الأزل من خیرہ، وشرہ، وحلوہ، ومرہ، کائن عنہ سبحانہ وتعالیٰ بخلقہ وإرادتہ ماشاء کان، ومالا، فلا.

(ص:۷۰،ط:مکتبۃ المدینہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 300

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com