عنوان: کیا یہ بات درست ہے کہ "امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی"؟(108408-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ اس امت میں تہتر فرقے ہوں گے، ان میں سے ایک جنت میں جائے گا اور باقی بہتر جہنم میں جائیں گے۔ براہ کرم وضاحت فرمادیں۔

جواب: جی ہاں! امت کی تہتر فرقوں میں تقسیم حدیث شریف میں بیان کی گئی ہے، ذیل میں مکمل حدیث ترجمہ اور تشریح کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بلاشبہ میری امت پر (ایک ایسا زمانہ آئے گا، جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا اور دونوں میں ایسی مماثلت ہوگی) جیسا کہ دونوں جوتے بالکل برابر اور ٹھیک ہوتے ہیں، یہانتکہ بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدفعلی کی ہوگی، تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے، جو ایسا ہی کریں گے اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے، میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی اور وہ تمام فرقے دوزخی ہوں گے، ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ ( ﷺ )! جنتی فرقہ کون سا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو میرے اور میرےصحابہ کے طریقے پر ہوگا"۔

تشریح:

١۔ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کی اُمت دو قسم کی ہے: ایک اُمت دعوت، دوسری: اُمتِ اجابت۔
آپ ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انسان اور جنات جو ایمان نہیں لائے یا نہ لائیں گے، وہ سب امت دعوت کہلاتے ہیں اور جو ایمان لائے، وہ امت اجابت کہلاتے ہیں۔

۲۔ مذکورہ بالا حدیث میں ’’امت ‘‘ سے مراد ’’امت اجابت‘‘ ہے، ’’امت دعوت ‘‘ مراد نہیں ہے، یعنی مسلمانوں کے تہتر فرقے مراد ہیں، جن میں سے ایک نجات پانے والا ہوگا، کیونکہ کفار کے بے شمار فرقے ہیں۔

۳۔ حدیث شریف میں کہا گیا ہے "کلھم فی النار" (وہ تمام فرقےجہنم میں ہوں گے) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب اپنے غلط عقائد اور بد اعمالیوں کی بنا پرجہنم میں داخل کیے جائیں گے اور ان کا جہنم میں داخل ہونا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوگا، بلکہ یہ فرقے اپنی گمراہی کی سزا پانے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے، بشرطیکہ ان کے عقائد واعمال اس درجہ خراب نہ ہوں کہ وہ کفر دائرے میں آتے ہوں۔

۴۔ نجات پانے والے فرقے سے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ما انا علیہ واصحابی(جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگی )اس جماعت سے مراد "اہلِ سنت والجماعت" ہیں۔

٥۔’’اہل ِ سنت والجماعت‘‘وہ مسلمان ہیں، جو عقائد واحکام میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم کے مسلک پر ہوں اور قرآن کریم کے ساتھ سنّتِ نبویہﷺ کو بھی حجت مانتے ہوں، اور اس پر عمل کرتے ہوں اور دین میں اپنی طرف سے کچھ کمی، زیادتی کرنے والے نہ ہوں اور جو فرقہ اس قسم کے عقائدِ صحیحہ نہ رکھتا ہو، وہ نجات پانے والا نہیں ہے۔

خلاصہ کلام:

حدیث شریف میں امت سے مراد "امت اجابت" ہے، یعنی اہلِ قبلہ اور مسلمان اس کا مصداق ہیں،جو سب کے سب جہنم سے نجات پائیں گے، البتہ بعض لوگوں کو حساب و کتاب کے بعد ہی سے جہنم سے نجات مل جائے گی اور یہی وہ فرقہ ناجیہ ہے، جسے ’’اہل ِسنت والجماعت‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ بعض لوگ جہنم میں داخل ہو کر اپنے گناہوں کی سزا کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نجات حاصل کریں گے اور یہ وہ باقی بہترفرقے ہوں گے اور جو لوگ فاسد عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوکر دائرہ کفر میں داخل ہوگئے ہیں، جیسے: ذکری، آغاخانی، بوہری، منکرین حدیث اور قادیانی وغیرہ، یہ فرقے غیرناجیہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

لمافی عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل، حتى إن كان منهم من أتى أمه علانية لكان في أمتي من يصنع ذلك، وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة، وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة، قالوا: ومن هي يا رسول الله؟ قال: ما أنا عليه وأصحابي.

(سنن الترمذی،حدیث نمبر:۲۶۴۱،ج:۴،ص:۳۲۳،ط:دارالغرب الاسلامی)

وفی مرقاۃالمفاتیح لملاعلی القاری:

(وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة) ، قيل: فيه إشارة لتلك المطابقة مع زيادة هؤلاء في ارتكاب البدع بدرجة، ثم قيل: يحتمل أمة الدعوة فيندرج سائر الملل الذين ليسوا على قبلتنا في عدد الثلاث والسبعين، ويحتمل أمة الإجابة فيكون الملل الثلاث والسبعون منحصرة في أهل قبلتنا، والثاني هو الأظهر، ونقل الأبهري أن المراد بالأمة أمة الإجابة عند الأكثر

(ج:۱،ص:۲۵۹،ط:دارالفکر)

وفی الفصل في الملل لابن حزم الظاھری:

قال أبو محمد وأهل السنة الذين نذكرهم أهل الحق ومن عداهم فأهل البدعة فإنهم الصحابة رضي الله عنهم وكل من سلك نهجهم من خيار التابعين رحمة الله عليهم ثم أصحاب الحديث ومن اتبعهم من الفقهاء جيلا فجيلا إلى يومنا هذا أو من اقتدى بهم من العوام في شرق الأرض وغربها رحمة الله عليهم

(ج:۲،ص:۹۰،ط: مکتبۃ الخانجی)

وفی مرعاۃ المفاتیح لأبی الحسن عبيد الله بن محمد المباركفوري :

أن الفرقة الناجية من اتصف بأوصافه عليه السلام، وأوصاف أصحابه، وكان ذلك معلوماً عندهم غير خفي، فاكتفى به، وربما يحتاج إلى تفسيره بالنسبة إلى من بعد تلك الأزمان. وحاصل الأمر أن أصحابه كانوا مقتدين به، مهتدين بهديه، وقد جاء مدحهم في القرآن، وأثنى عليهم متبوعهم محمد - صلى الله عليه وسلم -، وإنما خلقه - صلى الله عليه وسلم - القرآن، فالقرآن إنما هو المتبوع على الحقيقة، وجاءت السنة مبينة له، فالمتبع للسنة متبع للقرآن، والصحابة كانوا أولى الناس بذلك، فكل من اقتدى بهم فهو من الفرقة الناجية الداخلة للجنة بفضل الله، وهو معنى "ما أنا عليه وأصحابي"، فالكتاب والسنة هو الطريق المستقيم، وما سواهما من الإجماع وغيره فناشيء عنهما، هذا هو الوصف الذي كان عليه النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه، وهو معنى ما جاء في الرواية الأخرى "وهي الجماعة"؛ لأن الجماعة في وقت الإخبار كانوا على ذلك الوصف، انتهى. قلت: وهو معنى ما جاء في حديث أبي أمامة عند الطبراني: ((كلهم في النار إلا السواد الأعظم)) . وأصرح من ذلك ما رواه الطبراني أيضاً عن أبي الدرداء، وواثلة، وأنس بلفظ: ((كلهم على الضلالة إلا السواد الأعظم. قالوا يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من السواد الأعظم؟ قال: من كان على ما أنا عليه وأصحابي)) . فالمراد "بالجماعة" و"السواد الأعظم" و"ما أنا عليه وأصحابي" شيء واحد، ولا شك أنهم أهل السنة والجماعة.

(ج:۱،ص:۲۷۵،ط: إدارة البحوث العلمية)

کذا فی امداد الاحکام :

(۱،ص:۱۶۹،ط: مکتبۃ دارالعلوم کراچی)

کذا فی فتاوی رحمیہ:

(ج:۲،ص:۵۶،ط:دارالاشاعت)

کذافی مظاہر حق:

(ج:۱،ص:۲۱۰،ط: دارالاشاعت)
کذا فی تحفۃ الالمعی:

(ج:۶،ص؛۴۲۱،ط:زمزم پبلیشرز)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 290

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com