عنوان: اگر جوئے کی انعامی رقم استعمال کرلی، تو توبہ کی کیا صورت ہوگی؟(108413-No)

سوال: السلام علیکم، اگر کسے شخص نے جوا کھیلا ہو اور جوے میں جتنے پیسے جیتے ہوں، وہ سارے خرچ کردیئے ہوں تو اب اس کی توبہ کی کیا صورت ہوگی؟

جواب: صورت مسئولہ میں آپ اپنے مال میں سے جوئے کی رقم کے بقدر رقم اس کے مالک کو واپس کردیں، اور اگر مالک معلوم نہ ہو، تو ثواب کی نیت کے بغیر مذکورہ رقم صدقہ کردیں۔
نیز جوا کھیلنے اور اس کا حرام مال استعمال کرنے پر سچے دل سے توبہ و استغفار بھی کریں، اور آئندہ مذکورہ حرام کام سے مکمل اجتناب کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی القرآن الکریم:

یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأنْصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ، إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضآءَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ، فَہَلْ أَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ

(سورۃالمائدہ: آیت نمبر: 90, 91)

وفی روح المعانی:

وفی حکم ذلک جمیع انواع القمار من النرد والشطرنج وغیرھما حتی ادخلوا فیہ لعب الصبیان بالجوز والکعاب والقرۃ فی غیر القسمۃ و جمیع انواع المخاطرۃ والرھان وعن ابن سیرین کل شئی فیہ خطر فھو من المیسر۔

(ج2، ص694، رشیدیہ، کوئٹہ)

وفی رد المحتار:

والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه

(ج:5، ص:99، مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، ط: سعید)

وفی فقہ البیوع:

والمال المغصوب وما في حکمہ مثل ما قبضہ الإنسان رشوة أو سرقة أو بعقد باطل شرعاً لا یحل لہ الانتفاع بہ، ولا بیعہ ولا ھبتہ، ولا یجوز لأحد یعلم ذلک أن یأخذہ منہ شراء أو ھبة أو إرثاً، ویجب علیہ أن یردہ إلی مالکہ فإن تعذر ذلک وجب علیہ أن یتصدق بہ عنہ الخ

(ج:2،ص:1052)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 126

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com