عنوان: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات عالم بالا میں کتنا وقت گزارا؟(108417-No)

سوال: مفتی صاحب! رسول صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج پر عالم بالا میں کتنا وقت گزارا تھا؟

جواب: واضح رہے کہ "واقعہ معراج" میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کو "إسراء" اور مسجد اقصیٰ سے آسمانوں اور عالم بالا کی طرف جو سفر ہوا، اس کو "معراج" کہا جاتا ہے، قرآن کریم نے اس واقعے کی طرف سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اشارہ کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ".

(سورۃ بنی اسرائیل: 1)

ترجمہ:

پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گئی، جس کے آس پاس میں ہم نے برکتیں رکھ دی ہیں، تاکہ ہم ان کو اپنی قدرت کے کچھ نمونے دکھادیں، یقیناً اللہ ہی خوب سننے والے اور خوب دیکھنے والے ہیں۔

اکثر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت میں لفظ "لیلًا" نکرہ ذکر ہوا ہے، جس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ "اسراء و معراج" کے تمام واقعات رات کے ایک حصے میں ہوئے ہیں، گویا زمانی اور مکانی ساری مسافتیں سمٹ گئیں، کیونکہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک (جس کی مسافت اُس زمانے میں چالیس دن تھی) اور مسجد اقصیٰ سے عالم بالا اور سدرۃ المنتہیٰ تک کی مسافت کا تو کوئی حساب نہیں، یہ سارے واقعات صرف ایک رات میں اور وہ بھی رات کے کچھ حصے میں پیش آئے، احادیث مبارکہ میں اس کی صراحت موجود ہے، جیسا کہ حضرت شداد بن اوس رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت ام ہانی رضی اللّٰہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے رات کو عشاء کے وقت نماز ادا کی اور لیٹ گیا، اس کے بعد جبریل علیہ السلام سواری لے کر آئے اور مجھے لے گئے، پھر آپ نے اس رات کے تمام واقعات کی تفصیل بتائی اور آخر میں فرمایا کہ پھر میں رات ہی کے آخری پہر یعنی صبح کی نماز سے پہلے واپس آگیا اور صبح کی نماز مکہ میں ادا کی۔

خلاصہ یہ کہ "واقعہ معراج" رات کے کچھ حصے میں پیش آیا، اس لحاظ سے یہ واقعہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ مہینوں اور سالوں کا سفر رات کے کچھ حصے میں طے کیا جائے، اس کے علاوہ وقت کی ایسی تحدید جیسا کہ عام طور سے خطباء حضرات اپنے بیان میں ذکر کرتے ہیں کہ "آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو وقت تھم گیا، جب واپس آئے تو بستر اسی طرح گرم تھا، جیسا چھوڑ کر گئے تھے، دروازے کی کونڈی اسی طرح حرکت کر رہی تھی، جیسے چھوڑ کر گئے تھے اور پانی میں اسی طرح حرکت وارتعاش باقی تھا، جیسا کہ چھوڑ کر گئے تھے، وغیرہ وغیرہ"، اس طرح کی تفصیل اور تحدید ہمیں کسی حدیث میں نہیں ملی ہے، لہذا اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے، صرف انہی تفصیلات کو بیان کرنا چاہیے، جو احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

لما فی تفسیر البیضاوی:

"ولَيْلًا نصب على الظرف. وفائدته الدلالة بتنكيره على تقليل مدة الإسراء، ولذلك قرئ: «من الليل» أي بعضه كقوله: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ....واختلف في أنه كان في المنام أو في اليقظة بروحه أو بجسده، والأكثر على أنه أسرى بجسده إلى بيت المقدس، ثم عرج به إلى السموات حتى انتهى إلى سدرة المنتهى، ولذلك تعجب قريش واستحالوه، والاستحالة مدفوعة بما ثبت في الهندسة أن ما بين طرفي قرص الشمس ضعف ما بين طرفي كرة الأرض مائة ونيفاً وستين مرة، ثم إن طرفها الأسفل يصل موضع طرفها الأعلى في أقل من ثانية، وقد برهن في الكلام أن الأجسام متساوية في قبول الأعراض وأن الله قادر على كل الممكنات فيقدر أن يخلق مثل هذه الحركة السريعة في بدن النبي صلّى الله عليه وسلّم، أو فيما يحمله، والتعجب من لوازم المعجزات".

(ج: 3، ص: 247)

وفی التفسیر الکبیر للرازی:

"فإن قيل: الإسراء لا يكون إلا بالليل فما معنى ذكر الليل؟
قلنا: أراد بقوله: ليلا بلفظ التنكير تقليل مدة الإسراء وأنه أسرى به في بعض الليل من مكة إلى الشام مسيرة أربعين ليلة، وذلك أن التنكير فيه قد دل على معنى البعضية".

(ج: 20،ص: 292)

وفی مسند البزار:

3484 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن شبويه، قال: نا إسحاق بن إبراهيم الحمصي، قال: نا عمرو بن الحارث، قال: حدثني عبد الله بن سالم، عن الزبيدي، قال: حدثني الوليد بن عبد الرحمن، أن جبير بن نفير، حدثه قال: نا شداد بن أوس، رضي الله عنه قال: قلنا يا رسول الله، كيف أسري بك ليلة أسري بك؟، قال: " صليت لأصحابي صلاة العتمة بمكة معتما، فأتاني جبريل بدابة بيضاء فوق الحمار ودون البغل، فقال: اركب، فاستصعبت علي، فأدارها بأذنها حتى حملتني عليها، فانطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها... ثم أتيت أصحابي قبل الصبح بمكة، فأتاني أبو بكر فقال: يا رسول الله، أين كنت الليلة؟، فقد التمستك في مكانك، فقال: إني أتيت بيت المقدس الليلة، فقال: يا رسول الله، إنه مسيرة شهر".


(ج: 8، ص: 409)

وفی معجم أبي يعلى الموصلي:


10 - حدثنا محمد بن إسماعيل الوساوسي، قال: حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن يحيى بن أبي عمرو السيباني، عن أبي صالح مولى أم هانئ، عن أم هانئ، قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم بغلس، وأنا على فراشي [ص:43]، فقال: " شعرت أني نمت الليلة في المسجد الحرام، فأتاني جبريل عليه السلام، فذهب بي إلى باب المسجد، فإذا دابة أبيض، فوق الحمار، ودون البغل، مضطرب الأذنين، فركبته، فكان يضع حافره مد بصره، إذا أخذ بي في هبوط طالت يداه، وقصرت رجلاه، وإذا أخذ بي في صعود طالت رجلاه، وقصرت يداه، وجبريل عليه السلام لا يفوتني، حتى انتهيت إلى بيت المقدس...فأتيت المسجد الحرام، فصليت به الغداة " قالت: فتعلقت بردائه، وقلت: أنشدك الله يا ابن عم أن تحدث بهذا قرشيا؛ فيكذبك من صدقك فضرب بيده على ردائه، فانتزعه من يدي، فارتفع عن بطنه، فنظرت إلى عكنه فوق إزاره، وكأنه طي القراطيس، وإذا نور ساطع عند فؤاده، كاد يختطف بصري، فخررت ساجدة، فلما رفعت رأسي إذا هو قد خرج، فقلت لجاريتي نبعة: ويحك، اتبعيه، فانظري ماذا يقول، وماذا يقال له فلما رجعت نبعة أخبرتني [ص:44] أن رسول الله صلى الله عليه وسلم انتهى إلى نفر من قريش في الحطيم، فيهم المطعم بن عدي بن نوفل، وعمرو بن هشام، والوليد بن المغيرة، فقال: " إني صليت الليلة العشاء في هذا المسجد، وصليت به الغداة، وأتيت فيما بين ذلك بيت المقدس...الحديث.

(ص: 42)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 197

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com