عنوان: کیا بیوی سسر سے فتنہ کے خوف کی صورت میں مکان کا مطالبہ کرسکتی ہے؟ (108548-No)

سوال: السلامُ علیکم، آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں، میرے سسرال میں کافی عرصے سے مسائل چل رہے ہیں، خاص کر میرے سسر پردے کا لحاظ نہیں کرتے، کمرے میں آجاتے ہیں، کبھی کبھی کپڑے نوٹ کرتے ہیں، کدھر سوتے ہو، ایسے سوال کرتے ہیں، میرے شوہر مجھ پہ زور دیتے ہیں کہ میرے والدین کی خدمت کرو، شادی کے شروع سالوں میں میں نے انکی کافی خدمت کی بھی ہے، اس کے باوجود مجھے ہی برا کہتے ہیں، سارے خاندان میں مجھے جھوٹا کہا گیا اور میاں بیوی کے آپس کے معاملات میں بھی مداخلت ہوتی ہے، ان سب مسائل کی وجہ سے ہم الگ ہوگئے تھے، مگر اب میرے شوہر پھر کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ رہو، مگر میرے سسر کی کچھ حرکات اس طرح کی ہیں، جس کی وجہ سے میں خود کو ان سے غیر محفوظ سمجھتی ہوں، ساس بھی انکی ہاں میں ہاں ملاتی ہیں، کہتی ہیں رہنا ہے تو ہمارے طریقے سے رہنا ہے، میرے ساس سسر کے اپنے تین ذاتی گھر ہیں اور ایک بیٹا ان کا ان کے ساتھ بھی رہتا ہے اور اب وہ دوبارہ ہمیں اپنے ساتھ رہنے پہ مجبور کررہے ہیں اور میرے شوہر بھی مجھے مجبور کررہے ہیں، جبکہ انکے رویے ابھی بھی ویسے ہی ہیں، ان سب وجوہات کی بنا پہ میں اب دوبارہ اپنے ساس سسر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ تو کیا ایسی صورت میں بیوی پہ حق ہے کہ وہ شوہر کی بات مانے؟ اور اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اس بارے میں براہ مہربانی مجھے جلدی جواب عنایت کیجیے ۔جزاک للہ خیراً

جواب: اگر سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال حقیقت پر مبنی ہے،اور عورت کو واقعی اپنے سسر سے فتنے کا خوف ہے تو شوہر کا بیوی سے اپنے والد کی خدمت کروانا درست نہیں ہے، اور عورت کا اپنے شوہر سے ایسی رہائش کا مطالبہ کرنا، جس میں کسی اور کا عمل دخل نہ ہو، جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الدر المختار:(600/3، ط:دارالفکر )
بيت منفرد من دار له غلق
زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به.

الشامی:(600/3، ط:دارالفکر)
قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا هـ
قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر.

بدائع الصنائع:(23/4ط:دار اللکتاب الاسلامی)
ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر.

الھندیۃ:548/1،ط:دارالفکر
وإن قالت: لا أطبخ، ولا أخبز قال في الكتاب: لا تجبر على الطبخ والخبز، وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مهيإ أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - إن امتنعت المرأة عن الطبخ والخبز إنما يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ إذا كانت من بنات الأشراف لا تخدم بنفسها في أهلها، وإن لم تكن من بنات الأشراف لكن بها علة تمنعها من الطبخ والخبز أما إذا لم تكن كذلك فلا يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ كذا في الظهيرية قالوا: إن هذه الأعمال واجبة عليها ديانة، وإن كان لا يجبرها القاضي.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 120

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com