عنوان: جعلی اسناد دکھاکر نوکری حاصل کرنا (108557-No)

سوال: ایک شخص نے نقل کرکے سارے امتحانات پاس کیے ہیں، ان اسناد کے ساتھ نوکری حاصل کرلی ہے، اس کی أجرت کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: امتحانات میں نقل کرنا جھوٹ، خیانت، دھوکہ دہی، فریب اور حق داروں کی حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

اسی طرح جعلی اسناد دکھا کر ملازمت حاصل کرنا ناجائز اور حرام ہے، البتہ جو تنخواہ ملتی ہے، وہ کام کے عوض ملتی ہے٬ لہذا اگر وہ بندہ اس کام کی صلاحیت رکھتا ہو، اور دیانتداری کے ساتھ کام کرتا ہو٬ تو اس جائز کام کے عوض حاصل ہونے والی تنخواہ کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔

تاہم امتحان میں نقل کرنے، اور جھوٹ اور غلط بیانی کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے جیسے گناہوں سے توبہ و استغفار لازم ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال الامام فی الجامع:(رقم الحدیث:1972)
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إذا کذب العبد تباعد عنہ الملَکُ میلاً من نتن ما جاء بہ۔


و قال ایضا:(رقم الحدیث: 1315)
عن أبي ہریرة رضي اللّہ عنہ قال: من غش فلیس منا۔

و قال ایضا:(رقم الحدیث:1581)
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن الغادر ینصب لہ لواء یوم القیامة۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com