عنوان: بیوی، پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم(108558-No)

سوال: مفتی صاحب ! مرحوم کی بیوہ، 5 بیٹوں اور 2 بیٹیوں میں تقسیم وراثت کیسے ہوگی؟

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو چھیانوے (96) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو بارہ (12)، پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے ملیں گے۔

فیصد کے اعتبار سے تقسیم اس طرح ہوگی:
بیوہ کو % 12.5 فیصد
ہر ایک بیٹے کو % 14.58 فیصد
ہر ایک بیٹی کو. % 7.29 فیصد ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:(سورۃ النساء، آیت نمبر:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ ...الخ الاٰیۃ

وفی الاٰیۃ الاخرٰی قال اللہ عزوجل:(سورۃ النساء، آیت نمبر:12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ... الخ الاٰیۃ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com