عنوان: دوران سفر بس سے اتر کر جماعت سے نماز پڑھی جائے یا گھر آکر انفرادی طور پر پڑھی جائے؟(108644-No)

سوال: مفتی صاحب ! اگر بس میں جماعت کا وقت ہو جائے تو بس سے اتر کر جماعت میں شریک ہونا چاہیے یا گھر پہنچ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: مردوں کے لئے نماز کو باجماعت ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، اور بلاعذر جماعت ترک کرنا گناہ ہے، احادیثِ مبارکہ میں جماعت ترک کرنے پر سخت وعید آئی ہے: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس وقت کسی بستی یا جنگل میں تین افراد ہوں، اور وہ نماز کی جماعت نہ کریں، تو سمجھ لو کہ ان لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے، اور تم لوگ اپنے ذمہ جماعت سے نماز لازم کرلو ، کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے، جو کہ اپنے ریوڑ سے علیحدہ ہوگئی ہو۔ (سنن النسائي)

لہٰذا آپ کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ آپ بس میں سوار ہونے سے پہلے یا دوران سفر بس سے اتر کر باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں، البتہ اگر کبھی جماعت سے نماز پڑھنے کا موقع میسر نہ ہو، اور جماعت چھوٹ جائے، تو ایسی صورت میں انفرادی طور پر گھر میں بھی نماز ادا کرنے کی شرعاً اجازت ہے، تاہم اس صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ تنہا نماز پڑھنے کے بجائے گھر والوں کو جمع کرکے جماعت سے نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سنن النسائي:(رقم الحدیث:847،ط:مكتب المطبوعات الإسلامية)
'' قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليكم بالجماعة؛ فإنما يأكل الذئب القاصية»۔ قال السائب: يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة''۔

الدرالمختاروحاشيةابن عابدين:(552/1،ط:دارالفکر)
''(والجماعة سنة مؤكدة للرجال)''۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 104

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.