عنوان: بزرگان دین کے تبرکات اپنے پاس رکھنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کا حکم (108647-No)

سوال: کسی بزرگ یا استاد کے دیے ہوئے پیسے اس نیت سے اپنے پاس رکھنا کہ ان پیسوں کی وجہ سے میرے پاس پیسہ آئے گا یا برکت ہوگی، رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: بزرگانِ دین کے تبرکات اپنے پاس رکھنا، اور اس سے برکت حاصل کرنا شرعاً درست ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مبارک سنبھال رکھا تھا۔

امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: اس حدیث سے بزرگوں کے کپڑوں اور ان کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کا استحباب معلوم ہوتا ہے۔

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے:
اس حدیث سے بزرگوں کے کپڑوں کو بطور ذخیرہ اندوزی کے رکھنے اور ان سے تبرک حاصل کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، نیز لباس اورکھانے پینے کی چیزوں میں ان بزرگوں کی مشابہت اختیار کرنے کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔

لہذا کسی بزرگ کی دی ہوئی کسی چیز مثلاً: کپڑے وغیرہ سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صحيح المسلم:(رقم الحديث:2069،ط:دارإحياءالتراث العربي)
حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن عبد الملك، عن عبد الله، مولى أسماء بنت أبي بكر، وكان خال ولد عطاء، قال: أرسلتني أسماء إلى عبد الله بن عمر، فقالت: بلغني أنك تحرم أشياء ثلاثة: العلم في الثوب، وميثرة الأرجوان، وصوم رجب كله، فقال لي عبد الله: أما ما ذكرت من رجب فكيف بمن يصوم الأبد؟ وأما ما ذكرت من العلم في الثوب، فإني سمعت عمر بن الخطاب، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «إنما يلبس الحرير من لا خلاق له»، فخفت أن يكون العلم منه، وأما ميثرة الأرجوان، فهذه ميثرة عبد الله، فإذا هي أرجوان، فرجعت إلى أسماء فخبرتها، فقالت: هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخرجت إلي جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج، وفرجيها مكفوفين بالديباج، فقالت: هذه كانت عند عائشة حتى قبضت، فلما قبضت قبضتها، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها، فنحن نغسلها للمرضى يستشفى بها.

شرح النووي على صحيح المسلم:(44/14،ط:دارإحياءالتراث العربي)
وفي هذا الحديث دليل على استحباب التبرك بآثار الصالحين وثيابهم.

بذل المجهودفي حل سنن أبي داود:(83/12،ط:مركزالشيخ ابي الحسن الندوي)
فأخرجت له جبة طيالسة) فيه ادخار ثياب الصالحين ، والتبرك بآثارهم، وفضيلة التشبه بهم في الملبس والمأكل

وأيضاً:(221/12،ط:مرکز الشیخ ابی الحسن الندوی)
باب ما جاء في الرخصة) في ذلك
٤١٩٦ - (حدثنا محمد بن العلاء، نا زيد بن الحباب، عن ميمون بن عبد الله، عن ثابت البناني، عن أنس بن مالك قال: كانت لي ذؤابة، فقالت لي أمي: لا أجزها) أي: عنك أبدا (كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يمدها) أي: يبسطها بيده الكريمة (ويأخذ بها) وهذا من تلطفه - صلى الله عليه وسلم - بخادمه، وحسن عشرته - صلى الله عليه وسلم -، وفيه التبرك بآثار الصالحين، والاحتراص على ادخار ما لمسوه بأيديهم، أو جلسوا عليه، أو كان من لباسهم.

نجم الفتاوی:(476/1)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 145

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.