عنوان: والدین لڑکے کی پسند کے خلاف صرف خاندان میں شادی کرنے پر بضد ہوں تو لڑکا کیا کرے؟(108680-No)

سوال: میری عمر 22 سال ہے، میں یونیورسٹی میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں، اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں، لڑکی کے گھر والے راضی ہیں، لیکن میرے گھر والے خاندان سے باہر شادی کرنے پر راضی نہیں ہورہے ہیں، میں نے انہیں حدیث بھی سنائی ہے کہ دو محبت کرنے والوں کے درمیان نکاح سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، پھر بھی وہ نہیں مان رہے ہیں، ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ والدین کے مشورہ اور اجازت سے جو نکاح کیا جاتا ہے، اس میں زیادہ خیر و برکت ہوتی ہے، جبکہ والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے سے عموماً بےبرکتی رہتی ہے، اس لئے کہ والدین ہمیشہ اپنی اولاد کی بہتری اور بھلائی کا ہی سوچتے ہیں، خصوصاََ نکاح کے سلسلے میں والدین ایسی باریکیوں پر نظر رکھتے ہیں، جس کی طرف بچوں کی توجہ نہیں ہوتی، نیز پسند کی شادی عموماً وقتی جذبات کے سبب ہوا کرتی ہے، اور جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، ان جذبات کی شدت میں تسلسل کے ساتھ کمی واقع ہونے لگتی ہے، جو کہ بعد میں عموماً میاں بیوی کے درمیان جدائی کا سبب بنتی ہے، جب کہ اس کے برعکس والدین کی رضامندی سے طے کیے گئے رشتے زیادہ مضبوط اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں، اور رشتہ کے وقت کی عدم مناسبت عموماً گہری مناسبت اور چاہت میں بدل جاتی ہے، اس لئے اگر آپ والدین کی رضامندی کو اپنی خواہش پر مقدم رکھیں گے، تو یہ آپ کے لئے نہ صرف بہت بڑی سعادت کی بات ہوگی، بلکہ امید ہے کہ والدین کی فرمانبرداری کی برکت سے آپ کی زندگی خوشگوار ہوگی۔

والدین کو بھی چاہیے کہ اس پر فتن دور میں لڑکے کی پسند کو یکسر نظر انداز نہ کریں، صرف خاندان میں شادی کرنا شرعاً ضروری نہیں ہے، اس لئے اگر خاندان اور برادری سے باہر شادی کے علاوہ کوئی اور بڑی وجہ شادی کرنے کی نہ ہو، تو لڑکے کے میلان اور پسند کے مطابق اس کی شادی کردیں، معمولی باتوں کی وجہ سے رکاوٹ پیدا نہ کریں، البتہ اگر کوئی بڑی وجہ شادی نہ کرنے کی ہو، تو اسے لڑکے کے سامنے بیان کردیں، تاکہ اسے والدین کے فیصلے کے متعلق اطمینان حاصل ہو جائے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


القرآن الکریم:(سورۃالنساء،الایۃ:3)
فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنٰى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا ۔

المرقاۃ:(2047/5،رقم الحدیث:3090،ط:دارالفکر)
عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول الله ﷺ : (اذاخطب الیکم) أی طلب منکم أن تزوجوہ امرأۃ من أولادکم وأقاربکم (من ترضون) أی تستحسنون (دینہ) أی دیانتہ (وخلقہ) أی معاشرتہ (فزوّجوہ) أی ایاھا (ان لا تفعلوا) أی لا تزوجوہ (تکن) أی تقع (فتنۃ فی الأرض وفساد عریض) أی ذو عرض أی کثیر لأنکم لم تزوجوہ الامن ذی مال أوجاہ ربما یبقی أکثر نساء کم بلا أزواج وأکثر رجالکم بلانساء فیکثرون الا فتنان.

الفتاوى الهندية:(290/1،ط:دارالفکر)
الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح ، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال ، كذا في البدائع . فإذا تزوجت المرأة رجلا خيرا منها ؛ فليس للولي أن يفرق بينهما فإن الولي لا يتعير بأن يكون تحت الرجل من لا يكافؤه ، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي . الهداية في شرح بداية المبتدي

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 110

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.