عنوان: گھر میں کام کرنے والی ملازمہ یا ماسی کے چھٹیاں کرنے کی صورت میں تنخواہ کاٹنے کا حکم(108695-No)

سوال: السلام علیکم، گھر کی ماسی بار بار چھٹیاں کرے، کئی بار تنبیہ کے باوجود نہ مانے، تو کیا تنخواہ کاٹی جاسکتی ہے؟

جواب: ہماری شریعت نے اپنے ماتحت ملازمین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے، جبکہ ملازمین کے حقوق، مراعات اور چھٹیوں سے متعلق ملکی قوانین بھی موجود ہیں، مالکان کو ان کی بھی پاسداری کرنی چاہیے، تاکہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے۔
الغرض ملازم رکھتے وقت معاھدے میں جتنی چھٹیاں طے ہو جائیں اور جن شرائط کے ساتھ طے ہو جائیں، اس کی پابندی مالک اور ملازم دونوں پر ضروری ہے۔
لہذا گھر میں ماسی کو کام پر رکھتے وقت، ماہانہ جتنی چھٹیاں طے ہوں، اگر ان سے زائد چھٹیاں کرے، تو ان چھٹیوں کے عوض تنخواہ کاٹی جا سکتی ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الدرالمختار:(69/6،ط:دارالفکر)
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل".

الموسوعۃالفقھیۃالکویتیۃ:(289/1،ط:دارالسلاسل)
"الأجير الخاص: هو من يعمل لمعين عملا مؤقتا، ويكون عقده لمدة. ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة؛ لأن منافعه صارت مستحقة لمن استأجره في مدة العقد۔۔۔۔ويجب على الأجير الخاص أن يقوم بالعمل في الوقت المحدد له أو المتعارف عليه. ولا يمنع هذا من أدائه المفروض عليه من صلاة وصوم، بدون إذن المستأجر. وقيل: إن له أن يؤدي السنة أيضا، وأنه لا يمنع من صلاة الجمعة والعيدين، دون أن ينقص المستأجر من أجره شيئا إن كان المسجد قريبا ولا يستغرق ذلك وقتا كبيرا".

ردالمحتار:(419/4،ط:دارالفكر)
"وفي القنية من باب الإمامة إمام يترك الإمامة لزيارة أقربائه في الرساتيق أسبوعا أو نحوه أو لمصيبة أو لاستراحة لا بأس به ومثله عفو في العادة والشرع ."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.