عنوان: نو مولود بچوں کو رونے پر مارنے کی ممانعت سے متعلق حدیث کی تحقیق(108711-No)

سوال: السلام علیکم! مفتی صاحب کیا یہ حدیث صحیح ہے، براہ مہربانی وضاحت فرمادیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچوں کو رونے پر نہ مارو، اس لیے کہ چار ماہ تک رونا لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہے، اور اس کے بعد چار ماہ کا رونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور اس سے اگلے چار ماہ کا رونا والدین کے لیے دعا کرتا ہے۔ (علل الشرائع، ج1، ص62)

جواب: سوال میں مذکور حدیث تین صحابہ کرام: حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت واثلۃ بن الأسقع اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروى ہے، ذیل میں ان تینوں صحابہ کرام کى روایات کے الفاظ اور ان کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے، پھر ان احادیث کا حکم ذکر کیا جائے گا:

1-حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (اس حدیث کےتین طرق ہیں، دو طرق کے الفاظ مختلف ہیں):

پہلا طریق:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لا تَضْرِبُوا أَوْلادَكُمْ عَلَى بُكَائِهِمْ، فَبُكَاءُ الصَّبِيِّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ: الصَّلاةُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ: دُعَاءٌ لِوَالِدَيْهِ ".
(تاريخ بغداد للخطيب،13/ 246، تحقيق: الدكتور بشار عواد معروف، طبعة دار الغرب الإسلامي
)

ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "تم لوگ اپنے بچوں کو رونے پر مت مارا کرو، کیونکہ بچے کا چار ماہ تک رونا " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"كى گواہى ہوتى ہے، اس کے بعد چار ماہ تک بچے کا رونا محمد صلى اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنا ہوتا ہے اور مزید چار ماہ تک رونا اس کے والدین کے لیے دعا ہوتا ہے۔

دوسرا طریق:
وَأَخْرَجَ الْحَافِظُ مُحِبُّ الدَّينِ بْنُ النَّجَّارِ فِي "تَارِيخِ بَغْدَادَ" مِنْ طَرِيقِ أَبِي إِسْحَاقَ ...عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بُكَاءُ الصَّبِيِّ إِلَى شَهْرَيْنِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ: الْيَقِينُ بِاللهِ، وَإِلَى ثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ: الصَّلاةُ عَلَيَّ، وَإِلَى سَنَتَيْنِ: الاسْتِغْفَارُ لِلْوَالِدَيْنِ، وَكُلَّمَا اسْتَسْقَى شَرْبَةً مِنَ الْوَالِدَةِ أَنْبَعَ اللهُ فِي صَدْرِهَا عَيْنًا مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَخْرُجُ إِلَى ثَدْيِهَا مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ فَيَشْرَبُ".
(اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة 1/ 99،كتاب المبتدأ
)

ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ا للہ صلى اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بچے کا دو ماہ تک رونا " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ "کى گواہى ہے اور چار ماہ تک رونا اللہ پر یقین کا سبب ہے اور آٹھ ماہ تک رونا مجھ پر درود بھیجنا ہے اور دو سال تک رونا والدین کے لیے استغفار ہے. جب بھى بچہ اپنى ماں کا دودھ پینا چاہتا ہے، تو اللہ تعالى اس کى ماں کے سینے میں جنت کا ایک چشمہ جارى کر دیتے ہیں، وہ چشمہ اس کے پیٹ گوبر اور خون کے درمیان سے نکل کر اس کى چھاتى میں سے جارى ہوتا ہے، اور وہ بچہ ( دودھ کى شکل میں ) اس میں سے پیتا ہے۔

2-حدیث واثلۃ بن الأسقع رضی اللہ عنہ (اس حديث كے تین طرق ہیں):

پہلا طریق:
من طريق أبي العباس أحمد بن عيسى الوشاء بتنيس ثنا محمد بن جعفر المصيصي ثنا محمد بن قطن ثنا معلى الرفا عن معروف الخياط عن واثلة بن الأسقع قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "بكاء الصبي إلى سنتين لا إله إلا الله ثم من بعد ذلك استغفار لأبويه فما عمل من حسنة فلأبويه وما عمل من سيئة فلا عليه ولا على أبويه".
(تاريخ دمشق لابن عساكر:55/ 106، ترجمة محمد بن قطن الأذني الصوفي
)

دوسرا طریق:
من طريق أبي عمر عبد الرحمن بن أبي قرصافة العسقلاني ثنا محمد بن جعفر المصيصي ثنا محمد بن قطن ثنا يعلى الرفاعي عن معروف الخياط عن واثلة ابن الأسقع قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "بكاء الصبي إلى سنتين لا إله إلا الله محمد رسول الله...الخ
(التدوين في أخبار قزوين: 2/ 231، ترجمة أحمد بن محمد بن الحسين أبو علي القزويني
)

تیسرا طریق:
من طریق محمد بن خريم أن هشام بن عمار حدثهم نا معروف الخياط عن واثلة بن الأسقع قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بكاء الصبي إلى سنتين يقول لا إله إلا الله وما كان بعد ذلك فاستغفار لأبويه وما عمل من حسنة فلأبويه وما عمل من سيئة لم تكتب عليه ولا على أبويه حتى يجري عليه القلم.
(تاريخ دمشق لابن عساكر:59/ 348، ترجمة معروف بن عبد الله أبو الخطاب الخياط
)
وقال: غريب جدا.

ترجمہ:
حضرت واثلۃ بن الأسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بچے کا دو سال تک رونا "لا إلہ إلا اللہ" ہے (دوسرے طریق میں "محمد رسول اللہ کا بھى اضافہ ہے)، اس کے بعد رونا والدین کے لیے استغفار ہے، بچہ جو بھى نیک عمل کرے گا، وہ اس کے والدین کے لیے ہوگا اوربچہ جو بھى برا عمل کرے گا، اس کا گناہ نہ اس بچے پر ہوگا اور نہ اس کے والدین پرہوگا، (تیسرے طریق میں آخر میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: "یہاں تک اس پر قلم چل جائے یعنى خط تنسیخ پھیر دیا جائے)۔

3- حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ:
عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تضربوا أولادكم في المهد على بكائهم، فإن بكاء الصبي في المهد أربعة أشهر شهادة أن لا إله إلا الله، وأربعة أشهر الصلاة على نبيكم صلى الله عليه وسلم، وأربعة أشهر الاستغفار لوالديه".
(الطيوريات :2/ 550، ط: مکتبة أضواء السلف، الرياض
)

ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروى ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بچہ جب گود میں ہو، تو اس کو رونے پر مت مارا کرو، کیونکہ بچے کا چار ماہ تک رونا "لا إلہ إلا اللہ " کى گواہى ہے، اس کے بعد چار ماہ تک رونا تمہارے نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے اور اس کا چار ماہ تک رونا اپنے والدین کے لیے استغفار ہے۔

مذکورہ بالاتین احادیث کا حکم:

1- حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کى حدیث کے متعلق خطیب بغدادى رحمہ اللہ نے یہ فرمایا ہے:"حدیث منکر"ہے، ابو الحسن البلدى کے علاوہ حدیث باقى تمام رجال ثقہ مشہورہیں، علامہ ابن الجوزى رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنى کتاب "الموضوعات "میں نقل کر کے خطیب بغدادى رحمہ اللہ کا کلام نقل کرنے پر ہى اکتفا کیا ہے، البتہ حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ نے " لسان المیزان" میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد خطیب کا کلام نقل کیا ہے، اس کے بعد یہ اضافہ فرمایا ہے:"موضوع بلا ریب" (بلاشبہ یہ حدیث من گھڑت ہے) یعنى اس حدیث کو من گھڑت قرار دیا ہے، امام سیوطى رحمہ اللہ نے بھى اس حدیث پر حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ کا کلام ذکر کرنے کے بعد اس حدیث کے مزید دو طریق بطور متابع کے ذکر کیے ہیں، ایک ابن النجار کا اوردوسرا دیلمى کا، ان دونوں طریقوں میں ایک راوى" ابو مقاتل السمرقندى " ہیں، جن کے بارے میں امام سیوطیى رحمہ اللہ نے جرح کرتے ہوئے "واہ"قرار دیا ہے، لیکن علامہ ابن عراق کنانى رحمہ اللہ نے "تنزیہ الشریعۃ" میں "ابو مقاتل السمرقندى " کے متعلق مزید سخت جرح کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ان کى طرف "کذب اور وضع" کى نسبت کى گئى ہے، یعنى ان کى طرف جھوٹ اور اپنى طرف سے احادیث گھڑ کر بیان کرنے کى نسبت کى گئى ہے، لہذا یہ دو طریق بھى حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کا متابع نہیں بن سکتے۔

2- اس حدیث کے پہلے طریق میں راوی: " ابن الوشاء التنیسی " کے متعلق محدثین کا کہنا ہے کہ وہ منکر روایات بیان کیا کرتے تھے، انہیں بعض محدثین نے ثقہ اور بعض نے ضعیف قرار دیا ہے، نیز اس حدیث کے پہلے اور دوسرے طریق میں راوى: " محمد بن جعفر المصیصی" مجہول الحال ہیں، اسى طرح اس حدیث کےتینوں طرق میں راوى: معروف بن عبد اللہ الخیاط کى حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ نے " تقریب التہذیب" میں ضعیف قرار دیا ہے.
البتہ اس حدیث کے تیسرے طریق کے متعلق خود ابن عساکر رحمہ اللہ نے "غریب جدا" فرمایا ہے اور اس میں راوى: محمد بن خریم کے متعلق علامہ ابن عراق الکنانی نے" تنزیہ الشریعہ" میں اپنے شبہ کا اظہار اس طرح فرمایا ہے کہ اگر یہ محمد بن خزیمہ ہیں، تو ان کے متعلق علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: محمد بن خزیمہ مجہول ہیں اور وہ ہشام بن عمار سے جھوٹى روایت بیان کرتے ہیں، تاہم حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ معروف ہیں، ابن عساکر نے اپنى تاریخ میں ان کا تعارف کروایا ہے اور ان پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ ان کى بیان کردہ احادیث ان کے ضعیف ہونے پر دلالت کرتى ہیں، اور اگر راوى محمد بن خریم ہوں، تو ان کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ کا تبصرہ یہ ہے کہ وہ ہشام بن عمار سے روایت کرنے میں مشہور اور میرى نظر سے کسى محدث کا ان کو ضعیف قرار دینے کا حکم نہیں گزرا، نیز محمد بن خریم سے جنہوں نے یہ حدیث روایت کى ہے، وہ ابو الفرج العباس بن محمد بن حیان الدمشقى ، ان کا حال معلوم نہیں ہے۔

3- حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کى روایت کے متعلق ابو نصر ہبۃاللہ السجزى رحمہ اللہ المتوفى 514ھ نے اپنى کتاب " الجزء الأول والثانی من المنتخب من کتاب السبعیات (مخطوط)" میں فرمایا ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں سے " القاضي أبا الحسن محمد بن علي بن محمد الصخري" کے علاوہ تمام راوى مجہول الحال ہیں۔

خلاصہ بحث:
مذکورہ بالا تین روایات میں سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کى روایت تو "موضوع" (من گھڑت) ہے، جبکہ اس روایت کے دو شاہد حدیث حضرت واثلۃ بن الأسقع اور حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما پر محدثین کا حکم موضوع ہونے کا اگرچہ نہیں ملا ہے، تاہم ایک تو ان دونوں میں بھى وہى مضمون بیان ہوا ہے، جو حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنما کے موضوع طریق میں ہے اور دوسرا یہ دونوں طریق نہایت ضعیف ہیں، خصوصا جبکہ دونوں کے متن میں "نکارۃ" بھى پائى جاتى ہو، اس لیے احتیاط یہى ہے کہ ایسى روایت کو بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تخریج الأحاديث والحكم عليها:

1-حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما:
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَرَجِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ بِصُورَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلَفِ بْنِ بُخَيْتٍ الدَّقَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ الْمُهَلَّبِ الْبَلَدِيُّ بِعُكْبَرَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لا تَضْرِبُوا أَوْلادَكُمْ عَلَى بُكَائِهِمْ، فَبُكَاءُ الصَّبِيِّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ: شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ: الصَّلاةُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ: دُعَاءٌ لِوَالِدَيْهِ ".
تاريخ بغداد للخطيب، تحقيق: الدكتور بشار عواد معروف، طبعة دار الغرب الإسلامي (13/ 246) ترجمة علي بن إبراهيم بن الهيثم بن المهلب، أبو الحسن البلدي
وقال: هذا الحديث منكر جدا، ورجال إسناده كلهم مشهورون بالثقة سوى أبي الحسن البلدي.
وأخرجه ابن الجوزي في "الموضوعات" (1/ 152) باب ضرب الاطفال، من طريق أبي منصور عبد الرحمن بن محمد القزاز، عن أحمد بن علي بن ثابت الخطيب، به، وذكر كلام الخطيب.
والحديث ذكره الحافظ في "لسان الميزان" (5/ 477) في ترجمة علي بن إبراهيم بن الهيثم البلدي، من طريق الخطيب، وذكر كلامه، وقال: قلت: هو موضوع بلا ريب.
وأقره السيوطي في "اللآلىء المصنوعة" (1/ 98) كتاب المبتدأ

وَأَخْرَجَ الْحَافِظُ مُحِبُّ الدَّينِ بْنُ النَّجَّارِ فِي "تَارِيخِ بَغْدَادَ" مِنْ طَرِيقِ أَبِي إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي الْبَلْخِيُّ فِي طَبَقَاتِ البَلَخِيِّينِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَيْفُورٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَأْمُونِ بَغْدَادِيٌّ بِبَلَخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ القَصَّابُ الأَسْتَرَابَاذِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَليٍّ الأَسْتَرَابَاذِيُّ، عَن أَبِي مُقَاتِلٍ السَّمرقَنْدِيِّ، عَن إِسْمَاعِيلَ بْنِ خَالِدٍ، عَن سالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بُكَاءُ الصَّبِيِّ إِلَى شَهْرَيْنِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ: الْيَقِينُ بِاللهِ، وَإِلَى ثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ: الصَّلاةُ عَلَيَّ، وَإِلَى سَنَتَيْنِ: الاسْتِغْفَارُ لِلْوَالِدَيْنِ، وَكُلَّمَا اسْتَسْقَى شَرْبَةً مِنَ الْوَالِدَةِ أَنْبَعَ اللهُ فِي صَدْرِهَا عَيْنًا مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَخْرُجُ إِلَى ثَدْيِهَا مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ فَيَشْرَبُ".
اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة (1/ 99) كتاب المبتدأ
وقال: قال المستملي: محمد بن طيفور ثقةٌ رضيٌّ. وقال ابن طيفور: محمد بن المأمون بغدادي، قدم بلخ شيخ صالح. وأخرجه الديلمي من وجه آخر: عن أبي مقاتل حفص بن سالم قاضي سمرقند، وهو واه.
والحديث أورده الكناني في "تنزيه الشريعة"1/ 171 (6) كتاب المبتدأ/ الفصل الأول، من طريق الخطيب، وابن النجار، والديلمي، وأقر كلام السيوطي في طريق الخطيب، وقال في طريق ابن النجار والديلمي: (قلت) بلى منسوب إلى الكذب والوضع، كما مر فلا يصلح تابعا. والله أعلم.

2-حديث واثلة بن الأسقع رضي الله عنه:

أخبرنا أبو محمد بن الأكفاني ثنا عبد العزيز الكتاني أنبأنا تمام بن محمد أخبرني أبو طالب علي بن الحسن بن إبراهيم بن سعد الحلبي قراءة عليه ثنا أبو العباس أحمد بن عيسى الوشاء بتنيس ثنا محمد بن جعفر المصيصي ثنا محمد بن قطن ثنا معلى الرفا عن معروف الخياط عن واثلة بن الأسقع قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "بكاء الصبي إلى سنتين لا إله إلا الله ثم من بعد ذلك استغفار لأبويه فما عمل من حسنة فلأبويه وما عمل من سيئة فلا عليه ولا على أبويه".
تاريخ دمشق لابن عساكر (55/ 106) ترجمة محمد بن قطن الأذني الصوفي
وترجم الحافظ في "لسان الميزان" 1/ 571: "أحمد بن عيسى بن محمد بن عبد الله بن عشامة بن فرج أبو العباس الكندي الليثي الصوفي المقري المعروف بابن الوشاء التنيسي قال مسلمة في "الصلة": انفرد بأحاديث أنكرت عليه لم يأت بها غيره شاذة كتبت عنه حديثا كثيرا وكان جامعا للعلم وكان أصحاب الحديث يختلفون فيه فبعضهم يوثقه وبعضهم يضعفه.
قال الحافظ في "تقريب التهذيب" ص: 959 (6842): معروف بن عبد الله الخياط أبو الخطاب الدمشقي، ضعيف من الخامسة، وكان معمرا عاش مائة ثلاثين سنة أو أزيد (ق).
ومحمد بن جعفر المصیصی، لم نقف على ترجمته.

مما سمعه منه حديثه عن أبي الحسين محمد بن الحسين بن علي بن الترجمان الغزي ثنا أبو الحسين أحمد بن محمد العسقلاني ثنا أبو عمر عبد الرحمن بن أبي قرصافة العسقلاني ثنا محمد بن جعفر المصيصي ثنا محمد بن قطن ثنا يعلى الرفاعي عن معروف الخياط عن واثلة ابن الأسقع قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "بكاء الصبي إلى سنتين لا إله إلا الله محمد رسول الله ثم بعد ذلك استغفار لأبويه فما عمل من حسنة فلأبويه وما عمل من سيئة فلا عليه ولا على أبويه".
التدوين في أخبار قزوين (2/ 231) ترجمة أحمد بن محمد بن الحسين أبو علي القزويني
لعل الصواب معلى بن سلام أبو عبد الله القرشي الخباز الرفاء، كما ترجمه ابن عساكر في "التاريخ" (59/ 376).

أخبرنا أبو محمد بن الأكفاني نا عبد العزيز الكتاني أنا تمام بن محمد حدثني أبو الفرج العباس بن محمد بن حيان الدمشقي أنا محمد بن خريم أن هشام بن عمار حدثهم نا معروف الخياط عن واثلة بن الأسقع قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بكاء الصبي إلى سنتين يقول لا إله إلا الله وما كان بعد ذلك فاستغفار لأبويه وما عمل من حسنة فلأبويه وما عمل من سيئة لم تكتب عليه ولا على أبويه حتى يجري عليه القلم.
تاريخ دمشق لابن عساكر (59/ 348) ترجمة معروف بن عبد الله أبو الخطاب الخياط
وقال: غريب جدا.
والحديث ذكره السيوطي في " اللآلىء المصنوعة" (1/ 98) كتاب المبتدأ، من طريق ابن عساكر، به، وذكر كلام ابن عساكر عليه.
وقال الكناني في "تنزيه الشريعة" (1/ 171) كتاب المبتدأ/ الفصل الأول: راويه عن هشام بن عمار لا أدري أهو محمد بن خزيمة بالزاي أو ابن خريم بالراء، فإن كان الأول فقد كفانا الذهبي همه فقال محمد بن خزيمة عن هشام بن عمار بخبر كذب ولا يعرف، لكن تعقبه الحافظ ابن حجر في قوله لا يعرف فقال بل هو معروف ترجمه ابن عساكر في تاريخه وقال: أحاديثه تدل على ضعفه وإن كان الثانى فقد قال الحافظ ابن حجر: ترجم له ابن عساكر أيضا وهو مشهور بالرواية عن هشام بن عمار ولم أر فيه تضعيفا انتهى، فيراجع تاريخ ابن عساكر ليعرف عن أي الرجلين أخرج هذا الحديث، وليعرف حال راويه عنه أبي الفرج العباس بن محمد بن حيان الدمشقي فإني لم أقف له على ترجمة والله أعلم.

3-حديث أنس بن مالك رضي الله عنه:

469 - أخبرنا أحمد، حدثنا أبو عبد الله، حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن المجدر أو محمد بن علي قال: أنا أشك حدثنا إبراهيم بن عبد الله الطرسوسي، حدثنا بلال خادم أنس، عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((لا تضربوا أولادكم في المهد على بكائهم، فإن بكاء الصبي في المهد أربعة أشهر شهادة أن لا إله إلا الله، وأربعة أشهر الصلاة على نبيكم صلى الله عليه وسلم، وأربعة أشهر الاستغفار لوالديه))
الطيوريات (2/ 550)

(9) -[43] أخبرنا أبو علي الحسن بن علي بن محمد بن الشماع، أنبا محمد بن علي بن محمد بن صخر، ثنا أبو عبد الله عثمان بن أحمد العجلي، ببغداد، ثنا محمد بن المجرد، بعكبرا، ثنا إبراهيم بن عبد الله الطوسي، ثنا بلال خادم أنس، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تضربوا أولادكم في المهد على بكائهم، فإن بكاء الصبي في المهد أربعة أشهر شهادة أن لا إله إلا الله، وأربعة أشهر الصلاة على نبيكم، وأربعة أشهر استغفار لوالديه ".
الجزء الأول والثاني من المنتخب من كتاب السبعيات لأبي نصر السجزي - مخطوط (2/ 10)
وقال: بلال هذا لا أعرفه، ولا الرواة عنه إلا القاضي أبا الحسن محمد بن علي بن محمد الصخري الشيخ الجليل الحافظ الثقة شيخ بغداد، يروي عن الكبار والأئمة كعمر بن محمد بن سيف، وأبي بكر القطيعي، وأبي الطيب بن المنتاب، قدم سجستان في عهد والدي، وسمع منه والدي وأهل سجستان.

والله تعالى أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص،كراچى

Print Full Screen Views: 695

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.